Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

نصب العین کا تصور

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک خاص شکل اختیار کرلیتا ہے "نبی کے کام کی نوعیت" کے عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں : " دنیا میں انبیا علیہم السلام کے مشن کا منتہائے مقصود یہ رہا ہے کہ حکومتِ الہیہ قائم کر کے اُس پورے نظامِ زندگی کو نافذ کریں جو وہ خدا کی طرف سے لائے تھے ۔ وہ اہلِ جاہلیت کو یہ حق دینے کے لئے تیار تھے کہ اپنے جاہلی اعتقادات پر قائم رہیں ، اور جس حد تک اندر اُن کے عمل کا اثر نہیں کی ذات تک محدود رہتا ہے ، اس میں اپنے جاہلی طریقوں پر بھی چلتے رہیں مگر وہ انھیں یہ حق دینے کے لئے تیار نہ تھے اور فطرتاً نہ دے سکتے تھے کہ اقتدار کی کنجیاں اُن کے ہاتھ میں رہیں اور وہ انسانی زندگی کے معاملات کو جاہلیت کے قوانین پر چلائیں ، اسی وجہ سے تمام انبیاء نے سیاسی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی ، بعض کی مساعی صرف زمین تیار کرنے کی حد تک رہیں ، جیسے حضرت ابراہیم ، بعض نے انقلابی تحریک عملاً شروع کردی مگر حکومت الہیہ قائم کرنے سے پہلے ہی اُن کا کام ختم ہوگیا ، جیسے حضرت مسیح۔ اور بعض نے اس تحریک کو کامیابی کی منزل تک پہنچا دیا ، جیسے حضرت موسیٰ اور سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ تجدید و احیائے دین اے انبیاء کی طرف یہ انتساب صحیح نہیں کہ اگر سیاسی اقتدار کی کنجیاں ہاتھ آ جاتی تھیں تو وہ اہل جاہلیت کو یہ حق دینے کے لئے تیار ہو جاتے تھے کہ وہ اپنے جاہلی اعتقادات پر قائم رہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page