دین کی سیاسی تعبیر
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
قائد ہند، رہبر تاج، حکیم الامت، سر سید احمد خاں مصلح قائم ہو سکتا ہے جب حکومت سے مسلوب ہو کر مصلحین کے ہاتھ میں نہ آجائے۔ تفہیمات، حصہ اول ۔ " جہاد فی سبیل اللہ" عبادت کا مقصد دین کی اساسی تعبیر میں عبادت کو جو مقام ملتا ہے وہ حسب ۲۶:۵۴ دین کی سیاسی تعبیر میں عبادت کو جو مقام ملتا ہے وہ حسب ذیل ہے: "نماز، روزہ اور زکوٰۃ جنہیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرض کیا ہے اور اسلام کا رکن قرار دیا ہے، یہ ساری چیزیں دوسرے مذہبوں کی عبادات کی طرح پوجا پاٹ اور نذر و نیاز اور جاترا کی رسمیں نہیں ہیں کہ بس آپ اُن کو ادا کر دیں اور اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہو جائے گا۔ بلکہ دراصل یہ ایک بڑے مقصد کے لئے آپ کو تیار کرنے اور ایک بڑے کام کے لئے آپ کی تربیت کرنے کی خاطر فرض کی گئی ہیں ..... وہ مقصد انسان پر سے انسان کی حکومت مٹا کر خدائے واحد کی حکومت قائم کرنا ہو اور اس مقصد کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دینے اور جان توڑ کوشش کرنے کا نام "جہاد" ہے اور نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ سب کے سب اسی کام کی تیاری کے لئے ہیں"۔ خطبات، صفحہ ۲۰۵ نماز باجماعت کا مقصد: "مسلمان کے لئے یہ دنیا سخت جدوجہد، مقابلہ اور کشمکش کا معرکہ کارزار ہے۔ یہاں خدا سے بغاوت کرنے والوں کے بڑے بڑے جتھے بنے ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader