تقویٰ اور احسان
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
سے بچے پر آمادہ کرے اور احسان کا اساسی تصور خدا کی محبت ہے جو آدمی کو اُس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اُبھارے۔ ان دونوں چیزوں کے فرق کو ایک مثال سے یوں سمجھیئے کہ حکومت کے ملازموں میں سے ایک تو وہ لوگ ہیں جو نہایت فرض شناسی اور تندھی سے وہ تمام خدمات ٹھیک ٹھیک بجالاتے ہیں جو اُن کے سپرد کی گئی ہوں، تمام ضابطوں اور قاعدوں کی پوری پوری پابندی کرتے ہیں اور کوئی ایسا کام نہیں کرتے جو حکومت کے لئے قابلِ اعتراض ہو۔ دوسرا طبقہ اُن مخلص وفاداروں اور جاں نثاروں کا ہے جو دل و جان سے حکومت کے خواہ مخواہ ہوتے ہیں، صرف وہی خدمات انجام نہیں دیتے جو اُن کے سپرد کی گئی ہیں بلکہ اُن کے دل کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی ہے کہ سلطنت کے مفاد کو زیادہ سے زیادہ کس طرح ترقی دی جائے ۔ اور اُس دُھن میں فرض اور مطالبے سے زائد کام کرتے ہیں، سلطنت پر کوئی آنچ آئے تو وہ جان و مال اور اولاد سب کچھ قربان کرنے کے لئے آمادہ ہوجاتے ہیں قانون کی کہیں خلاف ورزی ہو تو ان کے دل کو چوٹ لگتی ہے، کہیں بغاو ت کے آثار پائے جائیں تو وہ بے چین ہو جاتے ہیں اور اُسے فرو کرنے میں جان لڑا دیتے ہیں، جان بوجھ کر خود سلطنت کو نقصان پہنچانا تو درکنار اُس کے مفاد کو کسی طرح نقصان پہنچنے دیکھنا بھی اُن کے لئے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے اور اس خرابی کے رفع کرنے میں وہ اپنی حد تک کوشش کا کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھتے اُن کی دلی خواہش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader