تقویٰ اور احسان
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں بس اُن کی سلطنت ہی کا بول بالا ہو اور زمین کا کوئی چہہ ایسا باقی نہ رہے جہاں اُس کا پھر یہ نہ اُڑے ان دونوں میں سے پہلی قسم کے لوگ حکومت کے ”متقی“ ہیں اور دوسری قسم کے لوگ اُس کے ”محسن“۔ اگرچہ ترقیاں متقین کو بھی ملتی ہیں اور بہرحال اُن کے نام اچھے ہی ملازموں کی فہرست میں لکھے جاتے ہیں مگر جو سرفرازیاں محسنین کے لئے ہیں اُن میں کوئی دوسرا اُن کا شریک نہیں ہوتا۔ ایسی ہی مثال پر اسلام کے متقیوں اور محسنوں کو بھی قیاس کر لیجیے۔ اگرچہ متقین بھی قابلِ قدر اور قابلِ اعتماد لوگ ہیں مگر اسلام کی اصل طاقت محسنین کا گروہ ہے اور وہ اصلی کام جو اسلام چاہتا ہے کہ دنیا میں ہو وہ اسی گروہ سے بن سکتا ہے: تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادیں ۔ ”احسان“ شہادتِ حق کہ شہادتِ حق کا منصب کہ جس کے لیے یہ سارا نظامِ کارِ دین کی شہادت دینے اور اتمامِ حجت کرنے کا کام اس تعبیر کے ڈھانچے میں ایک ایسی چیز بن گیا جس کا تعلق براہِ راست نظامِ حکومت کے قیام سے ہے حکومت کے بغیر اس کی "پوری طرح ادائیگی" ممکن ہی نہیں: "..... اس شہادت کی تکمیل اگر ہو سکتی ہے تو صرف اس وقت جبکہ ایک اسٹیٹ انہیں اصولوں پر قائم ہو جائے اور وہ پورے دین کو عمل میں لا کر اپنے عدل و انصاف سے، اپنے اصلاحی پروگرام سے، اپنے حُسن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader