دین کی سیاسی تعبیر
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
انتظام سے، اپنے باشندوں کے فلاح و بہبود سے، اپنے حکمرانوں کے نیک سیرت سے، اپنی صالح داخلی سیاست سے، اپنی راست بازانہ خارجی پالیسی سے، اپنی شریفانہ جنگ سے اور اپنی وفا دارانہ صلح سے ساری دنیا میں اس بات کی شہادت دے کہ جس دین نے اسی اسٹیٹ کو جنم دیا ہے وہ درحقیقت انسانی فلاح کا ضامن ہے اور اس کی پیروی میں نوع انسانی کی بھلائی ہے۔ یہ شہادت جب قولی شہادت کے ساتھ مل جائے تب وہ ذمہ داری پوری طرح ادا ہو جاتی ہے جو اُمت مسلمہ پر ڈالی گئی ہے، تب نوعِ انسانی پر بالکل اتمامِ حجت ہو جاتا ہے" شہادت حق معراج کا واقعہ دین کی سیاسی تعبیر کا یہ نتیجہ ہے کہ دینی حقیقتوں کے تعارف کے لئے ذہن کو جو بہترین الفاظ ملے وہ وہی تھے جس میں واقعات و حقائق سیاسی غلات میں لپٹے ہوئے نظر آئیں: " یہ کُرہ زمین جس پر ہم آپ رہتے ہیں خدا کی عظیم الشان سلطنت کا ایک چھوٹا سا صوبہ ہے، اس صوبہ میں خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھیجے گئے ہیں ان کی حیثیت کچھ اس طرح کی سمجھ لیجے جیسے دنیا کی حکومتیں اپنے ماتحت ملکوں میں گورنر یا وائسراے بھیجا کرتی ہیں۔ ایک لحاظ سے دونوں میں بڑا بھاری فرق ہے"

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader