معراج کا واقعہ
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اخلاقی انضباط پیدا ہو اور وہ خدا سے غافل نہ ہونے پائیں۔ معراج کی رات اس طرح کے اقتباسات کو اگر بڑھایا جائے تو وہ تقریباً اتنے ہی طویل ہو سکتے ہیں جتنا خود صاحبِ تعبیر کا متعلقہ لٹریچر ہے۔ تاہم جتنی عبارتیں درج کی گئی ہیں وہی مسئلہ کی نوعیت کو سمجھنے کے لئے بہت کافی ہیں ان عبارتوں میں ہر شخص صاف طور پر دیکھ سکتا ہے کہ کس طرح دین کا ہر حرز و سیاستی شکل اختیار کر گیا، زندگی اور کائنات کے تصور پر اسی طرح سیاسی رنگ چھا گیا جیسے مارکس کی تشریح میں تمام چیزوں پر معاشتی رنگ چھایا ہوا ہے۔ نصب العین نے سیاسی نوعیت اختیار کر لی ، دین سیاسی ڈھانچہ میں ڈھل گیا انبیاء کی بعثت میں سیاسی مقاصد کارفرما نظر آنے لگے ، اُمت مسلمہ اپنی اعلیٰ ترین حیثیت میں ایک قسم کی سیاسی پارٹی ہو کر رہ گئی ۔ عبادات بھی سیاست کا ضمیمہ قرار پائیں ۔ تقویٰ اور احسان سیاسی قالب میں ڈھل گئے ، شہادتِ حق نے سیاسی شہادت کی شکل اختیار کر لی ۔ معراج ایک طرح کا سیاسی سفر بن گیا ۔ غرض سارا دین ایسے اجزا کا مجموعہ بن گیا جن کی معنویت سیاست کے حوالے کے بغیر سمجھی نہ جاسکے ۔ کیا اس کو سیاسی پہلو پر زور دینا کہا جائے گا ۔ نہیں ، بلکہ یہ ایک تعبیر ہے جس کے لئے دوسرا موزوں لفظ نہ ہونے کی وجہ سے میں دین کی سیاسی تعبیر کہتا ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader