قرآن وحدیث سے استدلال
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
بِهِ نُوْحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ (شوری - ۱۳) کیا ہے جس کا اس نے نوح کو اور ابراہیم کو اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا اور اے محمد تمہاری طرف بھی ہم نے اسی کی وحی کی ہے یہ کہ اسی دین کو قائم رکھو اور اس میں متفرق نہ ہو۔ اس آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اس میں "الدّین" سے مراد اسلامی شریعت کے وہ سارے احکام و قوانین ہیں جو انفرادی و اجتماعی، قومی اور بین الاقوامی معاملات سے متعلق دیئے گئے ہیں اور اقامت کا مطلب ہے اُن کو جاری و نافذ کرنا ۔ اب چونکہ اس طرح کا ایک دین (یا مولانا مودودی کے الفاظ میں اسٹیٹ) حکومت کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا ۔ اس لئے "دین قائم کرو" کے حکم کا دوسرا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ حکومتِ الہیہ قائم کرو۔ مگر یہ اس آیت کی ایسی تفسیر ہے جو میرے علم کی حد تک کسی قابلِ ذکر مفسر نے اب تک نہیں کی ہے ۔ تمام علما نے تفسیر اس آیت میں الدّین سے مراد اصل دین یا دین کی بنیادی تعلیمات لیتے ہیں نہ کہ کل دین ۔ اُن کے نزدیک یہاں اقامتِ دین سے مراد سارے شرعی نظام کو لوگوں کے اوپر قائم کرنا نہیں ہے بلکہ دین کے اس بنیادی حصے کو پوری طرح اختیار کرنا ہے جو ہر شخص سے اور بہ ہر حال میں لازمی طور پر مطلوب ہے اور جس کو اپنی زندگی میں پوری طرح شامل کر لینے کے بعد کوئی شخص خدا کی نظر میں مسلمان بنتا ہے ۔ (۔۔۔۔ سائماً يكون المرء باقامته مسلما۔ پے در پے لکه التنزيل وغیرہا) زیر بحث تعبیر کے حلقہ میں اس آیت کا ترجمہ "دین قائم کرو" کیا جاتا ہے' یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader