قرآن وحدیث سے استدلال
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
ترجمہ بجائے خود غلط تو نہیں ہے مگر وہ ایک قسم کی غلط فہمی پیدا کرتا ہے ۔ زیر بحث فکر سے بنے ہوئے ذہنوں کے سامنے جب "دین قائم کرو" کا جملہ آتا ہے تو وہ اپنی ذہنی ساخت کے نتیجے میں "کرو" کا مطلب یہ سمجھ لیتے ہیں کہ " غالب و نافذ کرو " ۔ دوسرے لفظوں میں حکومتِ الہیہ قائم کرو ۔ حالانکہ اقیمواالدین کے فقرے کا یہ مطلب نہیں ہے ۔ اصل مفہوم کے اعتبار سے یہاں قائم رہنا یا قائم رکھنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ چنانچہ اُردو مترجمین نے عام طور پر اس کا ترجمہ " دین قائم کرو " نہیں کیا ہے ۔ بلکہ تقریباً سب کا ترجمہ وہی ہے جو ہم نے اپنے ترجمہ میں اختیار کیا ہے ۔ چنانچہ مشہور علماء کے ترجمے یہاں نقل کئے جاتے ہیں :۔ شاہ عبدالقادرؒ شاہ رفیع الدینؒ عبدالحق حقانیؒ اشرف علی تھانویؒ ڈپٹی نذیر احمدؒ شیخ الہند محمودالحسنؒ یہ کہ قائم رکھو دین اور پھوٹ نہ ڈالو۔ یہ کہ قائم رکھو دین کو اور مت متفرق ہو بیچ اس کے۔ اسی دین پر قائم رہنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ اسی دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ قائم رکھو دین کو اور اختلاف نہ ڈالو اس میں۔ اس رائے کی بنیاد دو آیت کے الفاظ ہیں، کیونکہ پوری آیت کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایسے دین کی اقامت کا حکم دیا جا رہا ہے جو حضرت نوح سے لیکر آخری رسول تک تمام انبیاء پر اترا تھا۔ اب چونکہ مختلف انبیاء پر نازل کی جانے والی تعلیمات اپنی پوری شکل میں یکساں نہیں تھیں ۔ عقائد اور بنیادی اصولوں پیے ہیں آریاکانی سرور کے لیے ایک یادگار دن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader