Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

قرآن وحدیث سے استدلال

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

کی حد تک توان سب کا دین بالکل ایک تھا، مگر تفصیلی شریعت اور عملی احکام میں ان کے درمیان کافی فرق تھا، اس لیے حکم کے الفاظ کے مطابق اس سے دین کا وہی حصہ مراد ہو سکتا ہے جو سب میں مشترک رہا ہو۔ امام رازی لکھتے ہیں :- انہ عطف علیہ سائر الانبیاء وذلک يدل على ان المراد هو الاخذ بالشريعة المتفق عليها بين الكل ( تفسير كبير، جلد هفتم ص ۳۸۲ ) رم زاری سے ہیں :- اسی کے اوپر تمام انبیار کا عطف ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حکم کا مطلب شریعت کے اس حصے پر پوری طرح عامل ہونا ہے جو تمام انبیار کے درمیان متفق علیہ ہے۔ چنانچہ امام رازی نے آیتِ مذکورہ کی تشریح مندرجہ ذیل الفاظ میں کی ہے:۔ واقول يجب ان يكون المراد من هذ الدين شيئاً مغايرا للتكاليف والاحكام ، وذلك لانها مختلفة متفاوتة ، قال الله تعالى ( لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا ) ، فيجب ان يكون المراد منه الامور التي لا تختلف باختلاف الشرائع وهي الايمان بالله وملئكته وكتبه ورسله ضرورہی ہے کہ یہاں اس الدین سے کوئی ایسی شئی مراد ہوجو احکام اور تكليفات کے علاوہ ہے، کیونکہ یہ چیزیں قرآن کی تصریح کے مطابق مختلف انبیار کے درمیان مختلف رہی ہیں پس لازم ہو کہ یہاں الدین سے مراد ایسے امور ہوں جن میں شریعتوں کے اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ ہے ایمان خداپر اُس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اُس کے رسولوں پر اور یوم آخرت پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page