قرآن وحدیث سے استدلال
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
واليوم الآخر۔ والایمان اور ایمان سے پھر اور چیزیں پیدا يوجب الاعراض عن الدنيا ہوتی ہیں ۔ دنیا سے اعراض آخرت کی والاقبال على الآخرة والسعى طرف لپک، اچھے اخلاق کی سعی اور في مكارم الاخلاق والاحتراز برے اخلاق سے احتراز۔ عن رذائل الاحوال (تفسیر کبیر جلد ہفتم ص ۳۸۲ ) مولاناشرف علی تھانوی لکھتے ہیں :- " مراد اس دین سے اصولِ دین ہیں جو مشترک ہیں تمام شرائع میں مثل توحید ورسالت و بعث ونحوہ ۔ اور قائم رکھنا یہ کہ اس کو تبدیل مت کرنا، اس کو ترک مت کرنا۔" (بیان القرآن ۔ سورہ شوریٰ) یہی رائے تقریباً تمام مفسرین نے دی ہے۔ کسی نے صرف متفقہ عقائد کا ذکر کیا ہے جو اولاً یہاں مراد ہے اور کسی نے اس کے ساتھ ان ناگزیر اعمال کا بھی ذکر کیا ہے جو ان عقائد کے ساتھ ان کے لازمی نتیجے کے طور پر انسان کی زندگی میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں میں کچھ اقتباسات نقل کرتا ہوں :- ابوالعالیہ :- الاخلاص لله وعبادته یعنی اس آیت میں اقامت دین کا مطلب خدا کے لئے اخلاص اور اس کی عبادت ہے۔ مجاہد :- لم یبعث نبی الا امرباقامة الصلوة اللہ نے ہر نبی کو حکم دیا تھا کہ وہ نماز قائم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader