قرآن وحدیث سے استدلال
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
والمراد اقامت دین الاسلام هو توحید الله وطاعته والایمان برسلہ وكتبه وبيوم الجزاء وسائرما يكون المرء باقامته مسلما، ولم يرد به الشرائع فانها مختلفة۔ ومحل ان اقیموا نصب بدل من مفعول شرع والمعطوفين علیه، او رفع على الاستئناف كأنه قيل وما ذلك المشروع فقيل هو اقامة الدين ۔ ( مدارك التنزيل ) اسلام کی اقامت مراد ہے : توحید، خدا کی اطاعت، رسولوں اور کتابوں اور یومِ جز اپر ایمان اور وہ سب چیزیں جن کو اختیار کر لینے سے کوئی شخص مسلمان بنتا ہے اس حکم میں انبیاء کی شریعتیں مراد نہیں ہیں کیونکہ وہ مختلف انبیاء کے درمیان مختلف رہی ہیں۔ نحوی ترکیب کے لحاظ سے ان اقیموا الدین یا تو محلِ نصب میں ہے کیونکہ وہ شرائع کے مفعول کا بدل ہے، یا وہ علیحدہ جملہ ہے اور محلِ رفع میں ہے گویا سوال تھا وہ کیا چیز ہے جو مشروع کی گئی ہے۔ فرمایا وہ ہے اس (متفق علیہ) دین پر قائم ہو جانا ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ آیت کے مخصوص الفاظ کی بنا پر یہاں مفسرین نے دین کی بنیادی تعلیمات کو پوری طرح اختیار کرنا مراد لیا ہے ۔ ایسی حالت میں اس کا یہ مطلب لینا کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے کہ دین کے تمام انفرادی و اجتماعی احکام کو زندگی کے سارے شعبوں میں نافذ کرو ۔ دوسرے لفظوں میں حکومت الہیہ کا قیام عمل میں لاؤ ۔ اوپر اقامت دین کی آیت کی تشریح میں جو بات عرض کی گئی ہے اُس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اصل دین کے علاوہ شریعت کے اجتماعی اور تمدنی قوانین ہمارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader