قرآن وحدیث سے استدلال
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے "اقامت" کا موضوع نہیں ہیں۔ میں صرف یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی اقامت اس طرح مطلق لفظوں میں ہم پر فرض نہیں کی گئی ہے۔ جیسے یہ تعبیر ان کو ہم پر فرض کرنا چاہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کے ان مقامات سے اس تعبیر کے حق میں استدلال نہیں ملتا جہاں فی الواقع دین کے اجتماعی احکام کے نفاذ کا حکم دیا گیا ہے۔ مثلاً یاداؤد انا جعلنا ك خليفة في الارض فاحكم بين الناس بالعدل ولا تتبع اهواء هم (ص ۲۶) اس کے برعکس وہ ہمیشہ ایسی آیتوں سے نکلتی ہوئی نظر آتی ہے جو اصل مسئلہ سے غیر متعلق ہیں۔ جیسے کوئی شخص زمین کی انفرادی ملکیت کا مخالف ہو اور قرآن سے سماجی ملکیت کا نظریہ ثابت کرنا چاہتا ہو تو اس کو قرآن کے ان الفاظ میں اپنا مدعا نظر نہیں آئے گا جہاں معاشی قوانین کا ذکر ہے ۔ اس کے بجائے وہ الارض للہ کے فقرہ سے استدلال کرے گا کیونکہ ان دو الفاظ کا مجرد ترجمہ لے کر بڑی خوبی سے اس میں اپنا نظریہ فٹ کیا جاسکتا ہے ، حالانکہ اس فقرہ کا کھیت اور کارخانہ کی ملکیت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ـــــــــــــ تمام غیر قرآنی نظریات کا بہترین ماخذ ہمیشہ غیر متعلق آیتیں رہی ہیں ۔ اب حدیث سے استدلال کی مثال لیجئے ۔ جماعت اسلامی ہند کے آرگن میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ " جماعت اسلامی نے اپنے لئے جو نصب العین اختیار کیا ہے اس میں جماعت کے کسی فرد کی پسند و ناپسند کا کوئی دخل نہیں ہے، بلکہ اسے اس بات پر یقین حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیا ء کرام کو اور آخر میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی نصب العین اسی مشن اور اسی مقصد کے لئے مبعوث فرمایا تھا اور اب قیامت تک کے لئے ان کی نیابت میں اُمت محمدی کا یہی مقصد وجود ہے ۔ اس طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader