قرآن وحدیث سے استدلال
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا گیا تھا کہ ۔ ” سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد اقامت دین تھا۔ آپ کی بعثت سے سیکڑوں سال پہلے تو رات میں یہ پیشین گوئی موجود تھی کہ جب تک دین قائم نہ ہو جائے آپ کی وفات نہ ہوگی“ اور پھر مقالے کے آخر میں یہ اعلان تھا:۔ ” یہ تفصیل ہمارے اس یقین میں اضافہ کرتی ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے لئے جو نصب العین اختیار کیا ہے اس میں اُس نے کوئی غلطی نہیں کی ہے بلکہ یہی نصب العین فی الواقع پوری اُمّتِ مسلمہ کا نصب العین ہے جس سے وہ غفلت برت رہی ہے“۔ ( زندگی اپریل ۱۹۶۲ء) صاحب مضمون نے ملتِ عوجار کا ترجمہ ” کج دین“ کیا ہے ۔ مگر بعد کو بان بقولوا کا فقرد بتاتا ہے کہ یہاں ملت بمعنی گروہ ہے ۔ کیونکہ کسی قول کا قائل اشخاص ہوتے ہیں نہ کہ ان کا دین۔ یہاں دراصل اللہ تعالیٰ کی اس مخصوص اسکیم کا ذکر ہے جس کے مطابق آخری رسول کو اپنے مخاطبین اولین سے جنگ کر کے انھیں عقیدہ بدلنے پر مجبور کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے نتیجہ میں بہت سے بے دینوں کو راہِ راست حاصل ہوئی۔ یہاں میں عینی اور ابن حجر کے الفاظ نقل کروں گا جس سے اس تشریح کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ قوله ( حتى يقيم به ) ای حتی ینفی به یقیم به کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے رسول الشرك ويثبت التوحيد قوله ( الملة کے ذریعہ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات کرنے العوجاء، هي ملة العرب و وصفها ملتِ عوجار سے مراد ملتِ عرب ہے، عربوں کو بالعرج لما دخل فيها من عبادة الاصنام کج اس لئے کہا کہ انھوں نے اپنے جدِ اعلیٰ وتغييرهم ملة ابراهيم عليه الصلوة حضرت ابراہیم علیہ الصلوة والسلام کے دین کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader