Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

قرآن وحدیث سے استدلال

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

والسّلام عن استقامتھا واملاتھم بعد قوامھا، والمراد من اقامتها اخراجھا من الكفر الى الايمان ( عمدة القاري ج دص ۳۸۰ ) ———— قوله (حتى يقيم به الملة العوجا) اى ملة العرب ووصفها بالعوج لما دخل فيها من عبادة الاصنام المراد باقامتھا (ان يخرج اهلها من الكفر الى الايمان ( فتح الباري جلد م ص ۲۸۷ ) ———— بدل دیا تھا اور اُن کے اندر بُت پرستی گھس گئی تھی ۔ ملّتِ عرب کی اقامت اُن کو کفر سے نکال کر ایمان کی طرف لانا ہے ۔ ملّتِ عوجا سے مراد ملّتِ عرب ہے ، اِن کو کج اس لئُے کہا گیا کہ اُن کے اندر بُت پرستی آگئی تھی ۔ اور اُن کی اقامت سے مراد اُن کو کفر سے نکال کر ایمان کی طرف لانا ہے ۔ اس تشریح سے واضح ہے کہ اس حدیث سے مندرجہ بالا استدلال صحیح نہیں ۔ اول۔ یہ کہ حدیث میں جس عمل کا ذکر ہے وہ ہے’’ لا الہ الا اللہ کہلانا‘‘ مگر اس کو معلوم نہیں کس دلیل کی بنا پر دنیا کی اصلاح‘‘ اور’’ تشریعی حکومت کے قیام‘‘ کے معنی میں لے لیا گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ حدیث کے الفاظ کے مطابق اس میں اُمت کا فریضہ نہیں بیان کیا گیا ہے بلکہ اللہ تعالی کے اپنے ایک عمل کا ذکر ہے جس کو وہ رسول کے واسطہ سے انجام دیگا۔ (اى يقيم الله تعالی بواسطته الملة العوجاء بان يقولوا لا اله إلا الله (قسطلانی ، ارشاد الباری جلد ۴ ص ۵۸ ) کہا گیا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول کی رُوح اس وقت تک قبض نہ کرے گا جب تک اس کے ذریعہ لوگوں سے لا الہ الا اللہ نہ کہلوائے ‘‘ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر ہے جس میں داعی کو اس وقت تک زندہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page