Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

قرآن وحدیث سے استدلال

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

رہنا ہے جب تک لوگ کلمۂ توحید اپنی زبان سے ادا نہ کر دیں۔ اب اگر اس فقرے سے رسول کی نیابت میں مومنین کا نصب العین اخذ کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم میں سے ہر شخص کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنے مخاطبین کو مسلمان نہ بنالے۔ کیا صاحب مضمون ایسا عہد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا نخواستہ ہمارے نزدیک دنیا کی اصلاح اور تشریعی حکومت کا قیام اسلام سے الگ کوئی چیز ہے۔ اصل یہ ہے کہ اسلام میں انفرادی احکام اور اجتماعی احکام کی نوعیتیں جدا گانہ ہیں۔ اس تعبیر کی غلطی یہ ہے کہ وہ دونوں کو ایک درجہ میں رکھ دیتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو آیات و احادیث سے ثابت نہیں ہوتی۔ انفرادی تقاضے ہر شخص سے ہر حال میں مطلوب ہیں۔ جن احکام کی تعمیل کسی شخص کی اپنی مرضی پر منحصر ہو، وہ اس وقت اس پر فرض ہو جاتے ہیں جبکہ وہ اُن کی تعمیل کی پوزیشن میں ہو۔ مگر اجتماعی احکام کا معاملہ اس سے مختلف ہے وہ اسی وقت روِ عمل آتے ہیں جب پورا معاشرہ اُن کو عمل میں لانے کے لئے تیار ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ احکام ہمیشہ اُس وقت نازل ہوئے ہیں جب اہلِ ایمان نے اپنے درمیان سیاسی تنظیم قائم کر لی تھی اور وہ اس حیثیت میں ہو گئے تھے کہ اس قسم کے سماجی قوانین کو بزور نافذ کر سکیں۔ شریعت کے اجتماعی احکام کا مخاطب با اختیار مسلم معاشرہ ہے نہ کہ متفرق اور منفرد اہلِ ایمان۔ بنی اسرائیل کی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک وہ مصر میں تھے انہیں تو رات کے قانونی احکام نہیں دیئے گئے ۔ البتہ مصر سے نکلنے کے بعد جب اُنہیں آزاد اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page