Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

قرآن وحدیث سے استدلال

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

با اختیار گروہ کی حیثیت حاصل ہوگئی تو فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوانین بھیج دیئے گئے۔ ٹھیک یہی صورت عرب میں اختیار کی گئی ۔ مکہ میں شریعت کا وہ حصہ اُترا جو ذاتی طور پر ہر ہر مومن سے مطلوب ہے۔ اور جس کی بہر حال میں لازمی اقامت کا حکم ہے اور بقیہ شریعت حالات کی نسبت سے بھیجی جاتی رہی۔ یہ احکام بعد کو اس وقت دیئے گئے جب اہلِ ایمان کو زمین پر اقتدار حاصل ہوگیا۔ احکام نازل ہونے کی یہ ترتیب بتا رہی ہے کہ عام حالات میں اہلِ ایمان پر دین کا صرف اتنا ہی حصہ مِّشرع و مفروض ہے جتنا دَورِ اقتدار سے پہلے اُترتا ہے۔ اس کے علاوہ بقیہ احکام کی تعمیل اُن پر صرف اس وقت فرض ہوتی ہے جب انھیں اقتدار اور حکومت کے مواقع حاصل ہو جائیں جو اس طرح کے احکام کے نفاذ کے لئے ضروری ہیں۔ شرعی احکام کا دائرہ عمل کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اُترنا خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ احکام مطلقا ً مطلوب نہیں ہیں۔ بلکہ حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں۔ ان کا تعین ہمیشہ اس شخص یا گروہ کے واقعی حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے جو اس کا مخاطب ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تمدنی اور اجتماعی احکام کا مخاطب صرف اہلِ ایمان کا وہ گروہ ہے جو ان احکام کو عمل میں لانے کی حیثیت میں ہو۔ محدود دائرۂ اختیار رکھنے والے اہلِ ایمان کو یہ حکم ہی نہیں دیا گیا ہے کہ وہ سماجی اور ملکی پیمانے پر دینی احکام کو نافذ کریں۔ احکام کی تعمیل ایک عملی مطالبہ ہے اور کوئی مطالبہ صرف ان ہی لوگوں سے کیا جا سکتا ہے جو پہلے سے اس کا اقرار کر چکے ہوں اور اسی کے بقدر کیا جا سکتا ہے جتنا بالفعل اُن کے لئے ممکن ہے۔ شریعت کا واضح اصول ہے کہ۔ لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے اوپر اتنے ہی عمل کی ذمے داری ڈالتا ہے جتنا اس کے "وسع" میں ہو ۔ وُسع سے زیادہ کا مکلف ٹھہرانا اللہ کا طریقہ نہیں پھر اہلِ ایمان کو ایسے احکام کیونکر دیئے جاسکتے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page