Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

قرآن وحدیث سے استدلال

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

جن کو وہ تعمیل کرنے کی حیثیت میں نہ ہوں۔ اگر کوئی شخص احکام دین کی تفصیل پیش کر کے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اہل ایمان ہر حال میں اس بات کے مکلف ہیں کہ وہ اس پوری فہرست کو زمین پر نافذ کریں تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص زکوٰۃ کے قوانین کا حوالہ دے کر کہے کہ سرمایہ کی وہ تمام اقسام جن پر زکوٰۃ کی شرحیں متعین کی گئی ہیں، ہر مسلمان کی ذمے داری ہے کہ وہ کوشش کر کے ان تمام مدوں کا مالک بنے تاکہ زکوٰۃ کے عنوان سے جو فرائض عائد کئے گئے ہیں اپنی زندگی میں وہ ان سب کی تعمیل کرسکے۔ معلوم ہوا کہ دین کے تفصیلی تقاضے مطلقا ًمشرع دع نہیں ہیں بلکہ حالات کی نسبت سے متفرع ہوتے ہیں۔ اہل ایمان کا دائرہ جس نسبت سے پھیلتا ہے اسی نسبت سے دین کے تقاضے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ جب تنہا ایک شخص مومن ہو تو اس پر دین کا اتنا ہی حصہ ہوگا جتنا اس کی ذات سے متعلق ہے اس وقت اس کی اپنی ذات ہی وہ مقام ہوگی جہاں وہ ہدایات الہی کی تعمیل کریگا۔ جب اہل ایمان ایک یا چند خاندان کی صورت اختیار کر لیں تو یہ خاندان اپنے دائرہ کے لحاظ سے اس کے مخاطب ہوں گے اور جب اہل ایمان کا کوئی گروہ ایک با اختیار معاشرہ کی حیثیت حاصل کرلے تو اس وقت پورے معاشرے کا فرض ہوگا کہ خدا کی طرف سے اس کے معاشرتی معاملات کے لئے جتنے بھی احکام دیئے گئے ہیں وہ ان سب کی مکمل پابندی اختیار کرے۔ اور چونکہ معاشرے کے پیمانے پر عمل اقتدار کے بغیر نہیں ہو سکتا اس لئے جب اہل ایمان کا کوئی معاشرہ اس حکم کا مخاطب ہو تو لازمی طور پر یہ مفہوم بھی اس میں شامل ہوگا کہ وہ اپنے اوپر ایک سیاسی امیر مقرر کریں اور اس کے ماتحت اجتماعی زندگی بنا کر تمام شرعی قوانین کا اجرا عمل میں لائیں۔ نصب امامت کا مسئلہ اس آخری صورت حال سے متعلق ہے جو متفقہ طور پر واجب ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page