Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

غلط تعبیر کہاں تک لے جاتی ہے

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

سعی کر لی تو اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوگیا ۔ اس لئے جو لوگ اس قسم کی بات کرتے ہیں، انھیں اپنے خیال کی تصحیح کر لینی چاہیئے ۔ اس کے بعد مضمون نگار عقل و نقل سے بہت سی مثالیں درج کرنے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں ۔ " آخر صرف فریضۂ اقامتِ دین کو ایک ایسا فریضہ کیوں سمجھ لیا جائے کہ جب تک ہم بالفعل اسے انجام نہ دے لیں، ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے ۔ اگر کسی شخص کے لئے یہ اندازِ فکر اس فریضہ کو انجام دینے کی جدّ و جہد سے فرار کا بہانہ بن بھی جائے تو کیا یہ بہانہ خدا کے یہاں بھی چل جائے گا ؟ اشارات، زندگی، اکتوبر ۶۱۹۶۵ موصوف کا یہ جواب بظاہر کافی وزنی معلوم ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ کس بات کا جواب ہے ۔ مجھے کوئی بھی ایسا شخص نہیں معلوم جس نے اس قسم کا مہل اعتراض کیا ہو ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ اسلامی حکومت قائم کرو“ کے الفاظ میں دینی نصب العین کی تعبیر اس لئے صحیح نہیں ہے کہ اس کے مطابق مسلمانوں کا نصب العین یہ قرار پاتا ہے کہ وہ بالفعل اسلامی حکومت قائم کر ڈالیں نہ کہ قائم کرنے کی کوشش کریں ۔ میں نے جو بات لکھی ہے وہ آیت لیظهره علی الدین کلّہ کے ذیل میں لکھی ہے ۔ کیونکہ متعلقہ آیت میں مجرد کوشش کرنے کا ذکر نہیں ہے جیسا کہ تمام اسلامی احکام میں ہوتا ہے ۔ بلکہ اس مخصوص آیت میں ایک ہونے والے واقعہ کا بیان ہے جس کو لازماً وجود میں آنا ہے خواہ کفار و مشرکین کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو “ اس لئے اس آیت سے اسلامی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page