Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

غلط تعبیر کہاں تک لے جاتی ہے

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

حکومت قائم کرنے کا نصب العین اخذ کرنے کی صورت میں آیت کی رو سے اس نصب العین کو محض " کوشش " کے مفہوم میں نہیں لیا جا سکتا بلکہ اس کو بالفعل قائم ملاحظہ ہو تعبیر کی غلطی صفحات ۳۴- ۳۳۹ کرنے کے مفہوم میں لینا ہوگا ۔ اپنی کتاب میں میں آیات و احادیث پر جو علمی بحث کر چکا ہوں اس کو دہرانے کا یہاں موقع نہیں ہے ۔ جو لوگ زیر بحث مسئلہ کا تحقیقی مطالعہ کرنا چاہیں وہ اصل کتاب میں اسے دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں صرف ایک نتیجہ کی طرف اشارہ کروں گا جو مولانا مودودی کی تعبیر دین کے لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوا۔ وہ یہ کہ اس تعبیر نے اسلامی تاریخ کا تصور بدل دیا۔ اس کی واضح مثال مولانا مودودی کی دواہم ترین تحریریں ۔ " قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں " اور " تجدید و احیائے دین “ ہیں ۔ پہلی کتاب میں قرآن کی اصطلاحات اربعہ ( الله ، رب ، عبادہ ، دین ) کی تشریح کی گئی ہے۔ کتاب کے دیباچہ میں مولانا مودودی نے یہ شکایت کی ہے کہ دور اخیر کی کتب لغت و تفسیر میں اکثر قرآنی الفاظ " کے معانی " نہایت محدود بلکہ مبہم مفہومات " کے لئے خاص ہو گئے ہیں۔ مثلاً الہ کا ترجمہ معبود کیا گیا ، رب کو پروردگار کا مترادف سمجھ لیا گیا ، عبادت کے معنی پرستش سمجھے جانے لگے ، دین کو مذہب کے مقابلے کا لفظ قرار دیدیا گیا ۔ اسی طرح ہر لفظ ایک مخصوص قسم کے رُوحانی اور مذہبی مفہوم کے لئے خاص ہو گیا اور مولانا کے نزدیک ان میں جو " تمدنی اور سیاسی " مفہومات تھے وہ اوجھل ہو گئے ۔ چنانچہ مولانا نے اپنی اس کتاب میں اصطلاحات اربعہ کے ان تمدنی و سیاسی مفہومات کی نقاب کشائی فرمائی ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، تعبیر کی غلطی ، باب چہارم )

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page