غلط تعبیر کہاں تک لے جاتی ہے
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآنی الفاظ کی تشریح میں اتنی بڑی غلطی کیسے ہوگئی اور کس طرح وہ سارے عالم اسلام میں صدیوں تک جاری رہی۔ اس کا سادہ سا جواب مولانا مودودی کے نظریے کے مطابق یہ ہے کہ "پہلے لوگوں نے دین کو صحیح طور پر سمجھا نہیں تھا؛ اس طرح زیر بحث فکر کو اپنی تسکین کا سامان تو مل گیا۔ مگر اس سے اسلامی تاریخ کی نوعیت بدل گئی مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں کم از کم نظریاتی طور پر تسلسل پایا جاتا ہے، مگر اب معلوم ہوا کہ یہ عقیدہ صحیح نہیں تھا۔ کیونکہ اسلامی تاریخ اپنی طویل ترین مدت میں ایک زبردست خلاصے سے دوچار رہی ہے جس کو مولانا مودودی کے ظہور سے پہلے کسی نے ختم نہیں کیا۔ "قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں" کے دیباچہ میں لکھتے ہیں : "عرب میں جب قرآن پیش کیا گیا تھا اس وقت ہر شخص جانتا تھا کہ الٰہ کے معنی کیا ہیں اور رب کسے کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں لفظ ان کی بول چال میں پہلے سے مستعمل تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ ان الفاظ کا اطلاق کس مفہوم پر ہوتا ہے۔ اس لئے جب اُن سے کہا گیا کہ اللہ ہی اکیلا الٰہ اور رب ہے اور الوہیت اور ربوبیت میں قطعا کسی کا کوئی حصہ نہیں تو وہ پوری بات کو پاگئے ...... اسی طرح عبادت اور دین کے الفاظ بھی ان کی بولی میں پہلے سے رائج تھے ۔ ان کو معلوم تھا کہ عبادت اور دین کا کیا مفہوم ہے۔ اس لئے جب ان سے کہا گیا کہ سب کی عبادت چھوڑ کر صرف اللہ کی عبادت کرو اور ہر دین سے الگ ہو کر اللہ کے دین میں داخل ہو جاؤ، تو انھیں قرآن کی دعوت کو سمجھنے میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader