غلط تعبیر کہاں تک لے جاتی ہے
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی غلط نہی پیش نہ آئی ، وہ سنتے ہی سمجھ گئے کہ یہ تعلیم ہماری زندگی کے نظام میں کس نوعیت کے تغیر کی طالب ہے : " لیکن بعد کی صدیوں میں رفتہ رفتہ ان سب الفاظ کے وہ اصلی معنی جو نزولِ قرآن کے وقت سمجھے جاتے تھے بدلتے چلے گئے یہاں تک کہ ہر ایک اپنی پوری وسعتوں سے ہٹ کر نہایت محدود بلکہ مبہم مفہومات کے لئے خاص ہو گیا ۔ اس کی ایک وجہ تو خالص عربیت کے ذوق کی کمی تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام کی سوسائٹی میں جو لوگ پیدا ہوئے تھے اُن کے لئے " الہ " اور " رب " اور " دین " اور " عبادت " کے وہ معنی باقی نہ رہے تھے جو نزولِ قرآن کے وقت غیر مسلم سوسائٹی میں رایج تھے انھیں دونوں وجوہ سے دو ر اخیر کی کتب لغت و تفسیر میں اکثر فتر آنی الفاظ کی تشریح اصل معنی لغوی کے بجائے اُن معانی سے کی جانے لگی جو بعد کے مسلمان سمجھتے تھے ...... نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کا اصل مدعا ہی سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل ہو گیا "۔ " پس یہ حقیقت ہے کہ محض ان چار بنیادی اصطلاحوں کے مفہوم پر پردہ پڑ جانے کی بدولت قرآن کی تین چوتھائی سے زیادہ تعلیم بلکہ اس کی حقیقی روح نگاہوں سے مستور ہو گئی اور اسلام قبول کرنے کے باوجود لوگوں کے عقائد و اعمال میں جو نقائص نظر آ رہے ہیں ان کا ایک بڑا سبب یہی ہے ۔ لہذا قرآن مجید کی مرکزی تعلیم اور اس کے حقیقی مدعا کو واضح کرنے کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان اصطلاحوں کی پوری پوری تشریح کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader