Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں مقدمہ

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

جائے ۔ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں مقدمہ مولانا مودودی نے اپنی اس کتاب میں قرآن کی چار بنیادی اصطلاحوں کے جن "مستور" معانی کو بے نقاب کیا ہے وہ سب سیاسی نوعیت کے ہیں جہاں تک ان الفاظ کے غیر سیاسی مفہومات کا تعلق ہے وہ تو پہلے سے معلوم تھے ، اس طرح منتقد کتاب کی مندرجہ بالا عبارت کی روشنی میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیاسی پہلو " قرآن کا اصل مدعا " اس کی " تین چوتھائی " سے زیادہ تعلیم " بلکہ اس کی " حقیقی روح " ہے۔ یہی اُس کی " مرکزی تعلیم اور اُس کا حقیقی مدعا " ہے اگر بات یہی ہے تو مولانا نے بہت رعایت کی کہ صرف بعد کی تاریخ پر قرآن سے عدم واقفیت کا الزام لگایا ۔ ورنہ اس بات کو وہ اور آگے تک لے جا سکتے تھے ! جب نظری اور علمی اعتبار سے قرآن کا اصل مدعا ہی مستور ہو گیا ہو تو عملی طور پر علماء ومصلحین کی اسلامی کوششوں کا اس سے متاثر ہونا لازم ہی ہے ۔ حدیث میں بتایا گیا تھا کہ ہر سو برس پر اللہ تعالیٰ ایک شخص پیدا کرے گا جو خدا کے دین کی تجدید کرے گا ۔ اس خبر نبوی کے مطابق اب تک کم از کم ایک درجن مجدد تو ضرور پیدا ہونے چاہئیں ۔ مگر دین کے سیاسی آئینہ میں دیکھنے پر معلوم ہوا کہ چودہ سو برس کی تاریخ میں اب تک کوئی ایک شخص بھی ایسا پیدا نہیں ہوا جس کو پورے معنوں میں مجدد کہا جاسکے ۔ مولانا مودودی نے اس سوال کو اس طرح حل کیا کہ اُنھوں نے کہا کہ مجد دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک جزوی اور دوسرے کامل ۔ اب تک جتنے مجدد پیدا ہوئے وہ سب کے سب جزوی مجدد تھے ۔ مولانا مودودی کے الفاظ میں " مجدد کامل کا مقام ابھی تک خالی ہے ۔ موصوف کی کتاب تجدید و احیائے دین ، جس کے سرورق پر پہلے " مجددینِ اُمّت کے کارناموں پر تنقیدی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page