Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں مقدمہ

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

نظر لکھا رہتا تھا اور اب اسے حذف کر دیا گیا ہے، اس میں بلا استثناء اب تک کے تمام مجددین کو جزوی مجدد قرار دیا گیا ہے ۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اور آگے جاتی ہے ۔ جیسا کہ مولانا مودودی نے لکھا ہے عملی طور پر مجدد کو فی الجملہ اسی نوعیت کا کام کرنا ہوتا ہے جو نبی کے کام کی نوعیت ہے “ (تجدید احیائے دین ۔ ۲۹) مجدد اور نبی میں، مولانا کی اپنی تشریح کے مطابق، جو بنیادی فرق ہے وہ یہ کہ نبی صاحب وحی ہوتا ہے جبکہ مجدد پر وحی نہیں آتی اور نہ اس قسم کی حیثیت اسے حاصل ہوتی ہے جو صاحب وحی ہونے کی وجہ سے نبی کو حاصل ہوتی ہے۔ اب اگر دین کی مندرجہ بالا سیاسی اور انقلابی تشریح کو مان لیا جائے تو اسی کے ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ مجددینِ امت کی طرح (نعوذ باللہ) خود انبیاء میں بھی جزوی نبی اور کامل نبی ہوئے ہیں ۔ کیونکہ معلوم ہے کہ انبیاء کی اکثریت اپنے علاقہ میں سیاسی انقلاب لانے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔ انبیاء کی بیشتر تعداد نے، حیثیت کے فرق کے ساتھ، عملی طور پر تقریباً اسی نوعیت کا کام کیا ہے جو جزوی مجددین“ کی زندگیوں میں نظر آتے ہیں ۔ مولانا مودودی کے الفاظ ہیں _ " بعض کی مساعی صرف زمین تیار کرنے کی حد تک رہیں ۔ جیسے حضرت ابراہیم، بعض نے انقلابی تحریک عملاً شروع کردی مگر حکومتِ الہیہ قائم کرنے سے پہلے ہی ان کا کام ختم ہوگیا، جیسے حضرت مسیح ، اور بعض نے اس تحریک کو کامیابی کی منزل تک پہنچا دیا۔ جیسے حضرت موسیٰ اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم (صفحہ ۲۲) گویا اس تشریح کے مطابق حضرت ابراہیم خلیل اللہ بھی ایک جزوی نبی تھے جو اسلام کی انقلابی تحریک کو کامیابی کی منزل تک نہ پہنچا سکے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page