Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں مقدمہ

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت سے ادنی انحراف بھی دین میں کیسی کیسی خرابیاں پیدا کر دیتا ہے ۔ لے یہ بات بھی محض رعاینہ کہی جاسکتی ہے کہ ورنہ حکومت و سیاست کا جو تصور مولانا مودودی نے دیا ہے اور مستقبل کے مجدد کامل کا جو " انقلابی نقشہ انھوں نے اپنی کتاب ( تجدید و احیائے دین) میں پیش کیا ہے، اس کے لحاظ سے تو خود حضرت موسیٰ اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی کم از کم اپنی زندگی میں، اس طرح کا کوئی نظام قائم نہ کر سکے تھے ے اس غلطی کی تصحیح کا دوسرا رد عمل یہ ہوا کہ خود اس مدرسہ فکر کے ایک پرجوش مبلغ نے دعویٰ کر دیا کہ یہ کہنا ہی غلط ہے کہ تمام انبیار نے اسلامی حکومت قائم نہیں کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام نبیوں نے اسلامی حکومت قائم کی تھی ۔ (زندگی، جولائی ۶۱۹۶۵ ، اشارات) مضمون نگار کے الفاظ میں ممکن ہے یہ بات لوگوں کو نئی معلوم ہو۔ لیکن قرآن نے رسولوں کے بارے میں اللہ کی جس سنت کا ذکر کیا ہے اُس کو سامنے رکھ لیا جائے تو اس دعوے کی صحت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا (صفحہ ۴۷)، اگر پچھلے انبیار کی پوری تاریخ محفوظ ہوتی تو ہم ان کی حکومت کے تمام انتظامات کی اسی طرح نشاندھی کر سکتے تھے جس طرح مدنی ریاست کے انتظامات کی کرتے ہیں ۔ (۸) ـــــــــ دوسرے لفظوں میں قرآن نے اگرچہ پچھلے انبیار کی جدوجہد کے اہم ترین انجام (حکومت الہیہ کے قیام) کا ذکر صراحۃ نہیں کیا ہے اور اب تک کی معلومات کے مطابق یہ تاریخ کا ایک نامعلوم واقعہ ہے، تاہم اس کی واقعیت کو اس لئے مان لینا چاہئے کہ موصوف کا تصور دین کہتا ہے کہ ایسا ضرور ہوا ہوگا ۔ یہ وہی استدلال ہے جو مارکس کے رفیق خاص فریڈرش انگلس نے اختیار کیا تھا ۔ اس نے کہا ، اگرچہ ابتدائی دور کے انسانی سماج کا حال تاریخی طور پر ہمیں نہیں معلوم مگر ہمارا تصور کائنات و انسان یہ کہتا ہے کہ ابتدائی سماج یقیناً ایک کمیونسٹ سماج رہا ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page