قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں مقدمہ
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
جب دیکھنے کا رُخ بدل جائے تو تصویر میں فرق پیدا ہو جانا لازمی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ کو ماؤسی تنگ کے فلسفے کی عینک سے دیکھئے تو مہاتما گاندھی بُورتھوا کے ایجنٹ نظر آئیں گے ۔ جبکہ ہندوستان کے اپنے آئینہ میں وہ قوم کے ہیرو دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح دین کی سیاسی تعبیر کی روشنی میں دیکھا جائے تو نظر آئے گا گویا ہماری دینی تاریخ ایک بہت بڑے خلا سے دوچار رہی ہے ۔ ساری اسلامی تاریخ میں نہ تو دین کا صحیح اور مکمل تصوّر موجود تھا اور نہ کوئی ایسا شخص پیدا ہوا جو دین کے صحیح اور مکمل کام کو انجام دیتا ۔ کیا اس تعبیر کو غلط قرار دینے کے لئے اس کے بعد بھی کسی دلیل کی ضرورت ہے ۔ دین کے بارے میں جس نظریہ کی صحت پر ایمان لانے کے لئے اسلامی تاریخ کو غلط ماننا پڑے، وہ نظریہ خود قابلِ رد ہے، نہ یہ کہ اس کی بنا پر تاریخ کو غلط قرار دیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader