Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

خاتمہ

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

خاتمہ بحث کے آخر میں چند باتوں کا اظہار مناسب ہوگا۔ ا۔ پہلی بات یہ کہ اس بحث سے میرا مقصود کسی شخص کی نیت پر حملہ کرنا یا اس کے عقیدہ وعمل کی بحث چھیڑ نا نہیں ہے۔ ماضی میں یہ غلطی بعض لوگوں نے کی ہے۔ مگر اُن کا انتہائی احترام کرتے ہوئے میں ادب کے ساتھ عرض کروں گا کہ اس معاملہ میں اُن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص عرصہ دراز تک چند خاص طرح کے "گمراہ" فرقوں سے مقابلہ کرتا رہے اور اس کے نتیجے میں اس کے قلم دان میں کچھ متعین قسم کی مہریں جمع ہو جائیں۔ فطری طور پر ان مہروں سے وہ اتنا مانوس ہو جائے گا کہ وہ سمجھنے لگے گا کہ ہر "گمراہ" فرقہ بس انھیں میں سے کسی ایک کا مصداق ہوتا ہے۔ اس لئے جب بھی کسی کا معاملہ سامنے آئے گا تو وہ دیکھے گا کہ اُس کی موجود مہروں میں سے وہ کونسی مہر ہے جو اس پر چسپاں کی جانی چاہیے ۔ اور اس کے بعد جس مہر کو وہ اس کے مناسب حال سمجھے گا، اُس کا ٹھپہ اُس کے اوپر لگا دے گا۔ حالانکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک مفتی کے پاس مہروں کی جتنی تعداد ہو، انسانی لغزشوں اور کوتاہیوں کی فہرست بھی بس اتنی ہی طویل ہو۔ نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ ۔ لے لے میرا احساس ہے کہ مولانا مودودی کی غلطی کو صحیح طور پر گرفت کرنے کے لئے صرف دین کا روایتی علم کافی نہیں ہے۔ بلکہ اسی کے ساتھ بعض نئی چیزوں سے واقفیت بھی ضروری ہے ۔ خاص طور پر مارکسزم اور جدید نفسیات۔ اول الذکر کی اہمیت غلطی کی نوعیت جاننے کے لئے ہے اور ثانی الذکر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page