Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

خاتمہ

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر یہی غلطی جو کچھ لوگوں نے جماعتِ اسلامی کے سلسلے میں کی تھی، وہی غلطی خود جماعتِ اسلامی نے میرے اوپر دہرادی۔ ان حضرات کی غلطی یہ تھی کہ اُن کے سامنے جماعتِ اسلامی کا مقدمہ آیا تو اُنھوں نے قیاس کیا کہ یہ بھی اسی قسم کا ایک ”گمراہ“ فرقہ ہے جیسے گمراہ فرقوں سے اب تک اُن کا سابقہ پیش آتا رہا ہے۔ اور فوراً اس کے اوپر اسی طرح کا فتویٰ عائد کر دیا۔ اسی طرح جماعتِ اسلامی نے یہ کیا کہ اس کے سامنے جب میری تنقید آئی تو اس نے سمجھا کہ یہ بھی اسی قسم کی ایک مخالفانہ و معاندانہ تنقید ہے جیسی تنقیدیں اب تک جماعت کے خلاف نکلتی رہی ہیں ۔ دیگر ناقدینِ جماعت نے جماعت اسلامی کو دوسرے فرقوں پر قیاس کیا تھا اور جماعتِ اسلامی نے میری تنقید کو دوسروں کی تنقید پر۔ اور ظاہر ہے کہ جب نفسِ تنقید ہی کو صحیح طور پر نہ سمجھا جائے تو جوابی ردِ عمل کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کی طرف سے اب تک میرے جواب میں جو کچھ کہا گیا ہے، جب میں اس کو دیکھتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی پہلوان خالی اکھاڑے میں اُتر کر فرضی طور پر کشتی لڑنا شروع کر دے، حالانکہ وہاں تماشائیوں یا عقید تمندوں کی غلطی کا درجہ متعین کرنے کے لئے۔ مارکسزم سے واقفیت یہ بتائے گی کہ ایک جزوی حقیقت جب کلی فلسفہ کی شکل اختیار کرتی ہے اور دعوتی مسئلہ اپنی حد سے آگے بڑھ کر تعبیر کا مسئلہ بن جاتا ہے، تو اس وقت کیا صورت حال پیدا ہوتی ہے اور جدید نفسیات سے واقفیت یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ کس طرح بہت سے واقعات آدمی کے تحت الشعور میں پرورش پاتے ہیں اور اس طرح واقعہ بن جاتے ہیں کہ آدمی کو خود بھی شعوری طور پر ان کی خبر نہیں ہوتی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page