Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

خاتمہ

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

کے سوا کوئی اس کے مقابل میں موجود نہ ہو۔ یہ تنقیدیں خواہ اکابر کی ہوں یا اصاغر کی، تقریری ہوں یا تحریری، مطبوعہ ہوں یا غیر مطبوعہ، سب کی سب یا تو غیر متعلق بحثوں سے بھری ہوئی ہیں، یا میرے موقف کو غلط شکل دے کر اس کے اوپر خشت باری کی گئی ہے ۔ یا ایسی باتیں کہی گئی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مخالفت کے جوش میں شاید یہ بھی یاد نہیں رہا کہ کس چیز کا نام دلیل ہے اور کس چیز کا نام محض لفظ بازی اور بعض تنقید نگاروں نے تو حد کردی کہ استہزا و تمسخر کی سطح پر اُتر آئے ۔ شاید ان کا خیال ہے کہ دلائل کی کمی کو استہزا و تمسخر کے ذریعہ پُرا کیا جاسکتا ہے، کیونکہ عوام' خاص طور پر معتقد عوام' یہ امتیاز نہیں کرپاتے کہ استہزا اور استدلال میں کیا فرق ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ میرے نزدیک اس لٹریچر کی غلطی کی نوعیت یہ نہیں ہے کہ وہ بالقصصد دین میں تحریف کی غرض سے کی گئی ہے بلکہ وہ غیر شعوری طور پر وقوع میں آئی ہے ۔ ایک خاص طرز فکر کا غلبہ اس کے مصنف کو سوچنے اور رائے قائم کرنے کے ایک خاص ڈھنگ کی طرف لے گیا ۔ اور اُس نے دین کی خدمت کے جذبہ سے نہ کہ اس کا حلیہ بگاڑنے کی نیت سے، ایک خاص انداز سے پورے دین کی شرح کر ڈالی ۔ یہاں تک مجھے لٹریچر کا مصنف بے قصور نظر آتا ہے ، مگر اس کے بعد جب مصنف کو اس پیدا شدہ صورت حال کی طرف توجہ دلائی جائے تو ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس پر غور کرے اور اپنے کلام کو حرفِ آخر سمجھ کر تنقید کو نظر انداز نہ کر دے ۔ غلطی ہو جانا غلطی نہیں ہے ۔ مگر جب تنبیہ کے باوجود غلطی پر اصرار کیا جائے اُس وقت وہ ضرور غلطی بن جاتی ہے ۔ مجھے اس کا احساس ہے کہ موجودہ حالت میں غلطی کا اعتراف محض ایک سادہ سی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page