خاتمہ
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
بات نہیں ہے بلکہ اس میں بہت سی نزاکتیں پوشیدہ ہیں۔ اسی لئے میں نے اپنی کتاب کی اشاعت سے پہلے متعدد بار جماعت کے اکابر سے بہت ہلکی سی چیز کا مطالعہ کیا تھا اگر وہ اسے مان لیتے یا اب بھی مان لیں تو اگرچہ خالص اصولی اعتبار سے مسئلہ پھر بھی اپنی جگہ باقی رہتا ہے، مگر دینی مصلحت کے پیش نظر میں کہوں گا کہ کم از کم نظریاتی سطح پر اس کے بعد اس اختلافی بحث کو ختم کر دینا چاہیئے ۔ میں نے اپنی کتاب میں ایسی دو صورتیں تجویز کی ہیں ۔ ایک کا تعلق مولانا مولانا مودودی سے ہے اور دوسری کا تعلق جماعت اسلامی سے جس تجویز کا تعلق مولانا مودودی سے ہے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مولانا مودودی اپنی طرف سے اس بات کا اعلان کر دیں کہ انھوں نے اپنی تحریروں میں دین کا جو تصور دینے کی کوشش کی ہے وہ اُن کے نزدیک علی الاطلاق دین کی تشریح نہیں ہے۔ بلکہ محض وقتی حالات کے پیش نظر انھوں نے کچھ چیزوں پر زور دیا ہے “ (تعبیر کی غلطی، صفحہ ۱۹) اس طرح ہمیں خود مصنف کی زبان سے (جو ماشاء اللہ نقید حیات ہیں) ایسی بنیاد مل جاتی ہے جس کی روشنی میں ہم اُن کی تحریروں کی تاویل کر سکیں ۔ دوسری تجویز جس کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے وہ یہ کہ جماعت باضابطہ طور پر اس بات کا اعتراف کرلے کہ ــــــــ " مولانا مودودی کا لٹریچر جماعت اسلامی کے فکر کی مستند شرح نہیں ہے “ (تعبیر کی غلطی، صفحہ ۱۳۰) اس کے بعد تدریستی طور پر مولانا مودودی کے لٹریچر کی حیثیت “ بدل جاتی ہے۔ ایسا ہو جائے تو اس کے بعد لٹریچر کی حیثیت حقیقی نہ رہے گی بلکہ اضافی ہو جائے گی ۔ اب اگر وہ استعمال ہوگا تو اپنی افادیت کی بنا پر استعمال ہوگا ۔ جیسے دوسری بہت سی کتابیں افادیت کی بنا پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader