خاتمہ
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
جماعت کے حلقہ مطالعہ میں استعمال ہوتی ہیں ۔ جماعت کے فکر کی مستند قانونی دستاویز کے طور پر اس کی اہمیت باقی نہ رہے گی ۔ (تفصیل کے لئے ، تعبیر کی غلطی ۵۷-۱۳۷) میں نے اپنی کتاب کی اشاعت سے پہلے اور خود کتاب کے اندر یہ تجویزیں واضح طور پر پیش کی ہیں، اور اگر چہ یہ حقیقت ہے کہ جو کچھ مطلوب ہے اس کے مقابلے میں یہ بہت کم تر درجے کی بات ہے ، مگر یا تو تعصب کی زیادتی تھی یا تدبیر کی کمی کہ اس کم تر بات کو بھی قبول نہیں کیا گیا۔ میں جانتا ہوں کہ عملی طور پر اب جماعت اسلامی میں مولانا مودودی کے لٹریچر کی یہی حیثیت ہوتی جارہی ہے۔ اور شاید وہ دن دور نہیں جب اس کی حیثیت ایک مقدس یادگار کی ہوکر رہ جائے ، جس کو مس کرنا یا اس کی بے حرمتی کرنا تو بلاشبہ ناقابل معافی جرم ہو۔ مگر ذہنی یا عملی زندگی سے اس کا کوئی تعلق باقی نہ رہے جیسا کہ مثال کے طور پر مارکس کے ساتھ ہوا ہے، اشتراکی دنیا میں مارکس کے الفاظ آج بھی وحی والہام کی طرح مقدس سمجھے جاتے ہیں ۔ مگر حقیقتًا اب وہ صرف کتب خانوں کی زینت ہیں اور عملی طور پر جن الفاظ کا چلن ہے وہ کچھ دوسرے ہی لوگوں کے الفاظ ہیں ۔ کسی حقیقت کی غیر فطری اور غیر واقعی تشریح ہمیشہ ایک تاریخی عمل سے دوچار ہوتی ہے ۔ وہ یہ کہ وقتی طور پر ایک خاص نسل کو متاثر کرنے کے بعد وہ مضمحل ہونا شروع ہو جاتی ہے اور بالآخر آثار قدیمہ کی ادبی الماری میں بند ہوکر رہ جاتی ہے ۔ یہ انجام متعلقہ لٹریچر کے ساتھ پیش آنا بھی ناگزیر ہے۔ اس کے وارث اور امین اس تاریخی عمل کو روک نہیں سکتے۔ البتہ اگر وہ اس ہونے والے واقعہ کا اپنی زبان سے اعتراف بھی کرلیں تو بلاشبہ یہ اُن کے لئے عظیم سعادت ہوگی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader