Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

خاتمہ

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہنیت کام کرتی ہے پگھلے ہوئے مادہ کو ایک سانچہ میں ڈال کر ہمیشہ یکساں نتیجہ کی اُمید کی جاسکتی ہے ۔ ایک کارخانہ سے نکلے ہوئے خوردبینی شیشے کسی چیز کو ہمیشہ ایک رنگ میں دیکھتے ہیں مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ انسان کے سلسلے میں بڑی مشکل یہ ہے کہ دلیل اور منطق سے ثابت کر لینے کے بعد بھی آپ یہ یقین نہیں کر سکتے کہ دوسرے شخص کو بھی وہ ضرور ثابت شدہ نظر آئے گی ۔ دوسرے لفظوں میں انسان کی آنکھ ایک ایسی پیچیدہ چیز ہے کہ ایک ہی چیز کو ایک شخص کی آنکھ سفید شکل میں دیکھتی ہے اور وہی چیز دوسرے کو کالی نظر آتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بات کی نوعیت کو سمجھنے یا اس سے متعلق رائے قائم کرنے میں آدمی کا اپنا نقطہ نظر کام کرتا ہے ۔ جب آدمی کسی چیز کو پڑھتا ہے تو وہ بالکل معروضی طور پر اور مجرد شکل میں اس کو نہیں پڑھتا، بلکہ اپنی ذہنیت کے دھندلکے میں پڑھتا ہے ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس چیز کو مجرد شکل میں نہیں بلکہ اپنی ذہنیت کے ڈھانچہ میں دیکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دو ذہنیت رکھنے والے ایک ہی چیز کے بارہ میں دو رائے قائم کرتے ہیں ۔ یہاں میں ایک مثال دیتا ہوں جس سے اس خیال کی وضاحت ہوتی ہو ۔ میں نے اپنی کتاب ” علم جدید کا چیلنج “ کے دیباچہ میں ایک مقام پر مولانا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page