تنقید
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک تازہ تصنیف ”خلافت و ملوکیت“ کے نام سے شائع ہوئی ہے، مولانا کے نزدیک خلافت کا نظام مثالی اسلامی زندگی کا نظام ہے اس کے بگڑنے کے بعد جو صورت حال پیش آئی، اُس کو مولانا نے ملوکیت کے نظام کا نام دیا ہے۔ مولانا کی ساری کوشش کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر دوبارہ خلافت کا نظام قائم ہو۔ خلافت جب ملوکیت میں تبدیل ہوئی تو اس میں کیا کیا فرق پیدا ہوا، اس کو مولانا نے م عنوانات کے تحت بیان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں چوتھا عنوان ہے ” آزادی اظہار رائے کا خاتمہ “۔ اس کے ذیل میں لکھتے ہیں :- ” اسلام نے اسے مسلمانوں کا صرف حق ہی نہیں بلکہ فرض قرار دیا تھا اور اسلامی معاشرہ اور ریاست کا صحیح راستے پر چلنا اس پر منحصر تھا کہ قوم کا ضمیر زندہ اور اور اُس کے افراد کی زبانیں آزاد ہوں، ہر غلط کام پر وہ بڑے سے بڑے آدمی کو ٹوک سکیں اور حق بات برملا کہہ سکیں۔ خلافت راشدہ میں لوگوں کی یہ آزادی پوری طرح محفوظ تھی ۔ خلفائے راشدین اس کی نہ صرف اجازت دیتے تھے بلکہ اس پر لوگوں کی بہت افزائی کرتے تھے ۔ ان کے زمانہ میں حق بات کہنے والے ڈانٹ اور دھمکی سے نہیں، تعریف و تحسین سے نوازے جاتے تھے، اور تنقید کرنے والوں کو دبایا نہیں جاتا تھا بلکہ اُن کو معقول جواب دیگر مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ لیکن دور ملوکیت میں ضمیروں پر قفل چڑھا دئے گئے اور زبانیں بند کر دی گئیں۔ اب قاعدہ یہ ہو گیا کہ منھ کھولو تو تعریف کے لئے کھولو، ورنہ چپ رہو۔ اور اگر تمہارا ضمیر ایسا ہی زوراً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader