Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

تنقید

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ تم حق گوئی سے باز نہیں رہ سکتے تو قید اور قتل اور کوڑوں کی مار کے لئے تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ جو لوگ بھی اس دَور میں حق بولنے اور غلط کاریوں پر ٹوکنے سے باز نہ آئے اُن کو بد ترین سزائیں دی گئیں‘۔ خلافت و ملوکیت، دہلی، ۱۹۶۷، صفحہ ۱۲۴ مولانا جس نظام خلافت کے احیاء کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں اُن کے بیان کے مطابق اُس کی آٹھ خصوصیات میں سے چوتھی’’اہم‘‘ خصوصیت یہ ہے کہ تنقید کرنے والے کو معقول جواب دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہی نہیں بلکہ اس کی ہمّت افزائی کی جائے اور اُس کو تحسین و آفریں سے نوازا جائے۔ اس کے برعکس دَور ملوکیت کا خاصّہ یہ ہے کہ تنقید کرنے والے کو دبایا جائے، اُس کو ڈانٹ اور دھمکی سے خاموش کیا جائے اور اس کے باوجود اگر وہ زبان کھولنے سے باز نہ رہے تو کوڑے اور جیل خانے کی منطق سے اس کا علاج کیا جائے۔ مولانا مودودی کی اس تشریح کو ذہن میں رکھئے اور اس کے بعد پانچ چھ سال پہلے کے اس واقعہ کو یاد کیجئے جو میرے ساتھ پیش آیا۔ اُس وقت میں جماعتِ اسلامی کا ایک رکن تھا۔ مجھے مولانا مودودی کی تحریروں کے بارہ میں بعض اعتراضات پیدا ہوئے ۔ دسمبر ۱۹۶۱ء میں میں نے اپنے خیالات قلمبند کر کے مولانا کی خدمت میں روانہ کئے ۔ اس کا جواب مجھے کیا ملا۔ مولانا خلافت کے نظام کے احیاء کے علم بردار ہیں اس لئے بظاہر اس تنقید واعتراض کار دُعمل یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ اس کو میرا حق نہیں بلکہ فرض سمجھتے، وہ سمجھتے کہ یہ میرے ضمیر کی زندگی کا ثبوت ہے ، وہ میری بہت افزائی کرتے معقول جواب دے کر مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کرتے حتی کہ مجھے تحسین و آفریں سے نوازتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page