Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

خاتمہ

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

ابو الحسن علی ندوی مد ظلہ اس آغاز کا حسن انجام ہیں ، کیونکہ یہ انہیں کی ذات والا صفات کا فیض ہے جس کی وجہ سے یہ کام اپنی موجودہ شکل میں تکمیل کو پہنچا ۔ اس قدر شرح کے ساتھ واضح طور پر اعتراف یہ دلیل ہے ۔ لکھنے والے کی شرافت نفس اور خلوص وحق پسندی کی ! ورنہ آج کی دنیا میں تو شاگرد اپنے اُستاد سے انحراف کرتے ہیں اور اپنے محسنوں اور تربیت کرنے والوں کو کوئی کریڈٹ دینا نہیں چاہتے ۔" فاران (کراچی) اکتوبر ۱۹۶۶ء مگر کتاب کا یہی پیرا گراف جس میں رسالہ فاران کو "شرافت نفس اور خلوص و حق پسندی " کی شہادت ملی تھی ، وہی جب دوسری ذہنیت کے سامنے آیا تو اُس نے بالکل برعکس مفہوم اختیار کر لیا ۔ میرا اشارہ رسالہ زندگی کے تبصرہ کی طرف ہے۔ رسالہ مذکور نے بھی اپنے تبصرہ میں کتاب کا مندرجہ بالا ٹکڑا نقل کیا ہے، مگر اس کے ذہن نے جو تاثر اخذ کیا ہے وہ اس سے یکسر مختلف ہے جو فاران کے یہاں نظر آتا ہے۔ رسالہ زندگی کے تبصرہ کا یہ حصہ ملاحظہ ہو: " فاضل مصنف نے اس کتاب کی تمہید ختم کرتے ہوئے لکھا ہے : " یہ بالواسطہ طور پر مولانا مودودی ہی کا فیض ہے کہ پندرہ سال پہلے اپنی زندگی کے ایک نازک ترین مرحلے میں میرے دل میں اس احساس نے غلبہ پایا کہ میں اپنی زندگی کو خدمت دین کے لئے وقف کر دوں جس کا ایک باقاعدہ مظہر یہ کتاب ہے ۔" یہ عبارت پڑھ کر مجھے یہ شعر یاد آ گیا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page