Urdu book · دین و شریعت

فوائد و برکات

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ پیشگی طور پر ان علماء کے لئے وہاں مددگار اور رابطہ کار کی حیثیت سے موجود تھے۔ اس طرح مدارس دینیہ کی صورت میں جو سپلائی ہاؤس قائم ہوا، اس کا دائرہ کسی مخصوص حد تک محدود نہ رہا۔ اس سپلائی ہاؤس کے ملک کے اندر کی دینی ضرورتیں بھی پوری ہوئیں اور ملک کے باہر کی دینی ضرورتیں بھی۔ ان لوگوں نے ہندوستان میں بھی دینی مدارس قائم کئے اور یورپ دامریکہ اور افریقہ میں بھی۔ ان کے ذریعہ ہر علمی شعبہ کو قابل کارافراد ملے اور مل رہے ہیں۔ اس دنیا میں ہر چیز میں مسلسل ترقی کی گنجائش رہتی ہے۔ مذکورہ سپلائی ہاؤس کو مفید تر بنانے کے لئے بھی بلاشبہ بہت سے امکانات موجود ہیں۔ مشترک غور وفکر کے ذریعہ ان امکانات کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے اور تعلیم و تربیت کے اس نظام کو اور زیادہ مفید بنایا جا سکتا ہے۔ ذہنی بُعد کا خاتمہ مدارس دینیہ کے ذریعہ ایک اور فائدہ یہ حاصل ہوا کہ اس کی وجہ سے ملت کے خواص اور ملت کے عوام کے درمیان وہ نقص پیدا نہ ہو سکا جس کو ذہنی بُعد (intellectual gap) کہا جاتا ہے۔ قرآن میں یہود کے تذکرہ کے تحت بتایا گیا ہے کہ ان میں ایک فریق وہ ہے جو علم و عقل رکھتا ہے (البقرہ ۷۵) یہاں ”فریق“ سے مراد یہود کے علماء ہیں جن کو احبار کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے کہ یہود میں دوسرا طبقہ ان کے عوام کا ہے۔ ان کی بابت قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: ومنهم اميون لا يعلمون الكتاب الا امانی وان هم الا يظنون (البقرہ ۷۸) یعنی اور ان میں اُن پڑھ ہیں جو نہیں جانتے کتاب کو مگر آرزوئیں۔ ان کے پاس گمان کے سوا اور کچھ نہیں۔ قرآن کی اس آیت میں اُمّیون کا لفظ آیا ہے۔ اُمّیون جمع کا لفظ ہے۔ اس کا واحد اُمّی ہے۔ اُمّی عربی زبان میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جو نہ لکھنا جانتا ہو اور نہ پڑھنا جانتا ہو (من لا يكتب ولا يقرأ) الجامع لاحكام القرآن للقرطبی، الجزء الثانی، صفحہ ۵۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page