فوائد و برکات
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں یہود کے اندر عمومی تعلیم کا رواج نہ تھا۔ کچھ مخصوص خاندان محدود طور پر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ یہی لوگ تھے جو اپنی مذہبی کتابیں پڑھتے تھے۔ ان کے علاوہ یہود کی بہت بڑی اکثریت جاہل رہتی تھی۔ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانہ میں عام طور پر خاندانی تعلیم کا رواج تھا نہ کہ عمومی تعلیم کا۔ عوام کی تعلیم و تدریس کے لئے ان کے یہاں مدرسے نہ ہوتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہود کے درمیان بڑے پیمانہ پر خواص اور عوام کی تقسیم قائم ہو گئی۔ کچھ افراد یا کچھ خاندان کو علماء کا درجہ حاصل ہوتا تھا۔ اور بقیہ لوگ طبقہ عوام میں شمار ہوتے تھے جو نہ پڑھنا جانتے تھے اور نہ ان کی براہِ راست رسائی مذہبی کتابوں تک ہو سکتی تھی۔ اس کے نتیجہ میں یہود کے علماء اور عوام کے درمیان ایک ذہنی بُعد (intellectual gap) قائم ہو گیا۔ ان کے عوام نہ خود اپنی مذہبی کتابوں کو پڑھ سکتے تھے اور نہ ان کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ وہ اپنے علماء کی علمی باتوں کو سمجھ سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام دھیرے دھیرے علماء سے دور ہوتے چلے گئے۔ مذہب کے نام سے ان کے پاس توہمات (superstitions) اور آرزوؤں (wishfulthinking) کے سوا اور کچھ باقی نہ رہا۔ خواص اور عوام کے درمیان اس ذہنی بُعد کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام کی اصلاح ناممکن ہو گئی کیوں کہ گہری اصلاح کی بات آسمانی کتابوں کے حوالہ سے کرنی پڑتی ہے، اور ان کے عوام اپنی جہالت کی بنا پر اس قابل ہی نہ تھے کہ وہ کتابی زبان اور علمی اسلوب کو سمجھ سکیں۔ یہی حال قدیم زمانہ میں تمام قوموں کا تھا۔ اس کی ایک مثال ہندوستان میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ہندوستان میں ہزاروں سال سے خواص و عوام کی یہی تقسیم بہت بڑے پیمانہ پر قائم تھی۔ علم یا پڑھنا لکھنا صرف برہمن خاندانوں کے درمیان محدود تھا۔ ایسے تعلیمی ادارے موجود نہ تھے جہاں عوام لکھنا پڑھنا سیکھیں۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم زیادہ تر کچھ برہمن خاندانوں میں منحصر ہو کر رہ گیا اور ملک کے ۹۵ فیصد عوام اپنی جہالت کی بنا پر توہمات کو مذہب سمجھ کر اس میں مبتلا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader