فوائد و برکات
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک حقیقت ہے کہ علم کو خواص کے دائرہ سے نکال کر عوام کے دائرہ تک پہنچانے کا کام تاریخ میں پہلی بار اسلام نے کیا۔ مسلم علماء نے علم کی توسیع کا یہ کام دنیا کے ہر ملک میں انجام دیا جن میں سے ایک ملک بلاشبہ ہندوستان بھی تھا۔ علماء اسلام نے تعلیم و تدریس کا جو کام شروع کیا اس کا فائدہ فطری طور پر یہاں کی غیر مسلم آبادی کو بھی پہنچا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلم دور کے آغاز سے پہلے ہندوؤں میں صرف برہمن اور اعلیٰ حیثیت کے کچھ لوگ تعلیم حاصل کر سکتے تھے۔ ہندو عوام زیادہ تر اس سے محروم تھے۔ مسلم عہد میں جب ملک میں عمومی تعلیمی ادارے کھولے گئے تو مسلم طلبہ کے ساتھ ہندو طلبہ بھی اس میں داخلہ لے کر تعلیم حاصل کرنے لگے۔ اس کے بعد جب 19 ویں صدی میں مسلم علماء نے زیادہ بڑے پیمانہ پر مدارس کھولنا شروع کیا تو ان مدارس کے ذریعہ مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلموں کو بھی فائدہ پہنچنے لگا۔ مدارس کی خاص صفت یہ تھی کہ وہ گاؤں گاؤں میں کھولے جا رہے تھے۔ اس طرح ہر خاندان کے لئے ممکن ہو گیا کہ وہ اپنے بچوں کو مدرسہ میں بھیج کر تعلیم دلائے۔ فطری طور پر والدین اپنے چھوٹے بچوں کو دور کسی شہر میں بھیجنے پر راضی نہیں ہو سکتے تھے لیکن جب ان کی اپنی بستی میں مدرسہ کھل گیا تو ان کے لئے ممکن ہو گیا کہ وہ اپنے بچہ کو مدرسہ کی تعلیم میں شامل کر دیں۔ مدارس کے اس عمومی پھیلاؤ سے بڑی تعداد میں غیر مسلموں کو بھی فائدہ پہنچا۔ مثال کے طور پر آزاد ہندوستان کے پہلے پریذیڈنٹ ڈاکٹر راجیندر پرشاد نے اپنے بچپن میں ابتدائی تعلیم بہار کے ایک مسلم مدرسہ میں حاصل کی تھی۔ اس طرح اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جس نے عوام اور خواص کے درمیان ذہنی بُعد (intellectual gap) کے تباہ کن نقصانات کو سمجھا اور اس کو دور کرنے کی موثر کوشش کی۔ اسلام کی اس روایت کو ہندوستان کے علماء نے اس ملک میں بھی پوری طرح باقی رکھا۔ بر صغیر ہند میں علماء نے مدارس کا جو سلسلہ شروع کیا اس کا ایک اہم فائدہ یہ تھا کہ خواص اور عوام یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader