فوائد و برکات
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
علماء اور عوام کے درمیان ذہنی بُعد (intellectual gap) کا مسئلہ پیدا نہ ہو سکا۔ بستی بستی اور شہر شہر مدارس کی کثرت نے کروڑوں لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا۔ اس طرح تعلیم یافتہ ہونے کی بنا پر اسلامی کتابیں عوام کی دسترس میں آ گئیں۔ لوگ ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہو گئے کہ وہ علماء کی باتوں کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنے شعور کی تعمیر کر سکیں۔ اگر مدارس کے ذریعہ اس ذہنی بُعد کو توڑا نہ جاتا تو خدانخواستہ مسلمانوں میں بھی وہی تباہ کن تقسیم قائم ہو جاتی جو یہود کی تاریخ میں احبار اور امیون کی صورت میں اور ہندوؤں میں برہمن اور غیر برہمن کی صورت میں قائم ہوئی۔ علماء ہند کا مزید کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے دینی تعلیم کو فری ایجوکیشن (مفت تعلیم) کی حیثیت دے دی۔ عوام بیشتر حالات میں معاشی تنگی کا شکار رہتے ہیں۔ اس بنا پر وہ اپنے ذاتی خرچ پر تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اگر مدارس کا نظام فیس کی بنیاد پر قائم کیا جاتا تو بیشتر مسلمانوں کا حال یہ ہوتا کہ مدارس کے باوجود وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہتے۔ علماء ہند کا یہ ایک غیر معمولی کارنامہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے بھروسہ پر دینی تعلیم کے نظام کو فری ایجوکیشن (مفت تعلیم) کے اصول پر رائج کیا اور ہر قسم کی مشکلوں کے باوجود اس کو قائم رکھا۔ انگریزی حکومت نے جو اسکول اور کالج کھولے وہ زیادہ تر شہروں میں واقع تھے۔ اس طرح وہ بڑی حد تک گاؤں کی دسترس سے باہر تھے جہاں ملک کی تقریباً 75 فیصد آبادی رہتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں علماء نے یہ کیا کہ انھوں نے گاؤں گاؤں میں مکتب اور مدرسہ کھول دیا۔ اس طرح انھوں نے دینی تعلیم کو عملاً ہر خاندان کے دروازہ (doorstep) تک پہنچادیا۔ مثال کے طور پر میں یوپی کے ایک دور دراز گاؤں میں پیدا ہوا، مگر یہاں بھی یہ حال تھا کہ گاؤں کی مسجد میں ایک مدرسہ موجود تھا۔ یہ مدرسہ ڈاکٹر عبد العلی خاں صاحب کے خاندان نے اپنی ذاتی ذمہ داری پر قائم کیا تھا۔ اب جناب یمین الاسلام خاں (انجینئر) وغیرہ کے تعاون سے اس کو بہت زیادہ ترقی دی جارہی ہے۔ عام قاعدہ کے مطابق، اس مدرسہ میں کوئی تعلیمی فیس نہ تھی۔ ابتدائی عمر ہی میں مجھے اس مدرسہ میں داخل کر دیا گیا۔ اگر گاؤں کے اندر یہ مدرسہ نہ ہوتا تو میرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader