Urdu book · دین و شریعت

فوائد و برکات

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

سرپرست کبھی بھی مجھ کو کم عمری میں کسی دور دراز مقام پر بھیجنے کی ہمت نہ کرپاتے۔ گاؤں کے اس مدرسہ میں میں نے اردو اور فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد میں مزید تعلیم کے لئے دوسرے مقام پر گیا اور وہاں ایک بڑے مدرسہ میں داخلہ لے کر عربی زبان اور دینی علوم کی تکمیل کی۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں برصغیر ہند میں اسلام اور ملتِ اسلام کے نام پر بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ ان تحریکوں کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ان کے گرد اکٹھا ہو گئی۔ اس سے قطع نظر کہ یہ تحریکیں کتنی نتیجہ خیز تھیں، ان تحریکوں کی مقبولیت اسی لئے ممکن ہوئی کہ مدارس دینیہ کے عمومی پھیلاؤ نے خواص اور عوام کے درمیان ذہنی بُعد کو ختم کر دیا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں جو بھی تحریک اٹھی اس نے قوم کے اندر اپنے لئے تیار ذہن (prepared mind) پایا۔ یہ تمام ترا نہیں مدارس کی تعلیمی مہم کا نتیجہ تھا۔ اگر تعلیم کی عمومی اشاعت کے ذریعہ خواص اور عوام کے درمیان ذہنی دوری کا خاتمہ نہ ہو گیا ہو تا تو ان تحریکوں کو کبھی یہ مقبولیت حاصل نہ ہوتی۔ ایسی حالت میں تحریکوں کے علم بردار اخبار اور رسالے جاری کرتے مگر یہاں ان کا کوئی پڑھنے والا نہ ہوتا۔ وہ جلسے کرتے مگر ان جلسوں میں ایسے لوگ شریک ہوتے جو سننے کے باوجود کچھ نہ سمجھتے۔ ہمارے خواص ایسے الفاظ لکھتے اور بولتے جن کا مفہوم وہ خود تو جانتے مگر وہی عوام ان سے بے خبر رہتے جن کو باخبر کرنے کے لئے یہ الفاظ لکھے اور بولے جا رہے تھے۔ ایسی حالت میں ان تحریکوں کا جو انجام ہو تا وہ پیشگی طور پر معلوم ہے۔ دینی وسلی انفراسٹکچر دینی مدارس کے ذریعہ ملت کو جو فائدے حاصل ہوئے ان میں سے ایک فائدہ وہ ہے جس کو دینی انفراسٹکچر کہا جا سکتا ہے۔ کسی بھی کام کو مؤثر انداز میں چلانے کے لئے ہمیشہ اس کے موافق ایک عملی ڈھانچہ یا انفراسٹکچر (infrastructure) درکار ہو تا ہے۔ مثال کے طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page