فوائد و برکات
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
تجارتی کاروبار کسی ملک میں اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب کہ تجارتی ساز و سامان کی منتقلی کے لئے پورے ملک میں اچھی سڑک کی سہولت موجود ہو۔ ہر مقام پر ٹیلی فون کا عمدہ انتظام ہو تاکہ ملک کے مختلف حصوں میں با آسانی پیغامات کو بھیجنا ممکن ہو سکے ، وغیرہ وغیرہ ۔ یہی معاملہ دینی اور ملی کام کا ہے۔ دینی ملی کاموں کے لئے بھی اس کے موافق ایک وسیع انفرااسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح مادی انفرااسٹرکچر کے بغیر مادی کاروبار ترقی نہیں کرتا، اسی طرح دینی انفرااسٹرکچر کے بغیر دینی کام بھی زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ دینی مدارس کا جو کام بر صغیر ہند میں شروع کیا گیا وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک ایسا کام تھا جو مسلسل تو سیع پذیر تھا۔ مدرسہ کے کام کی نوعیت یہ تھی کہ مدرسہ میں پڑھ کر تیار ہونے والا ہر نوجوان اپنے اندر یہ صلاحیت رکھتا تھا کہ وہ اپنی مادر علمی کی طرح خود بھی نے مدارس قائم کر سکے ۔ چنانچہ دینی مدارس کی تحریک کا آغاز ہوتے ہی یہ کام خود اپنے فطری مزاج کے زور پر آگے بڑھنے لگا۔ مدرسہ کے فارغین مدرسہ سے نکلنے کے بعد نئے مدارس قائم کرنے لگے۔ مدارس کے کام کی یہ توسّع حسابی تناسب (arithmetical proportion) سے آگے نہیں بڑھی، یعنی اس کے بڑھنے کی رفتار ۱، ۲، ۳، ۴، ۵، ۶، ۷، ۸، نہ تھی بلکہ وہ جیومیٹریکل تناسب (geometrical proportion) سے بڑھنا شروع ہوئی ۔ یعنی اس کے بڑھنے کی رفتار یہ تھی ــــ ۱، ۲، ۴، ۸، ۱۶، ۳۲، ۶۴۔ مزید یہ کہ یہ تحریک خود اپنی نوعیت کے اعتبار سے قابل بقا (sustainable) تحریک تھی۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدارس دینیہ کی تحریک نہ صرف یہ کہ باقی رہی بلکہ وہ خود اپنی داخلی طاقت سے روز افزوں تیزی کے ساتھ بڑھنے لگی یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے پورے بر صغیر ہند میں پھیل گئی۔ مسجد گویا پیشگی طور پر مدرسہ کے لئے بنی بنائی بنیاد (base) تھی۔ چنانچہ تقریباً ہر مسجد میں چھوٹا یا بڑا مدرسہ قائم ہو گیا ۔ جہاں مسجد ناکافی معلوم ہوئی وہاں مسجد کے باہر مستقل عمارت کی صورت میں مدارس قائم ہونے لگے ۔ یہاں تک کہ پورے بر صغیر ہند میں مدارس کا جال بچھ گیا ۔ جن کی تعداد ابلا مبالغہ لاکھوں تک پہنچتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader