Urdu book · دین و شریعت

مدرسہ کلچر

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

کتاب کو پڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث اس طرح میرے ذہن کا جزء بن گئی کہ وہ پھر کبھی مجھ سے جدا نہ ہوئی۔ وہ یہ ہے : عن حمید بن عبد الرحمن بن عوف، أن رجلاً أتی الی رسول الله ﷺ فقال: یا رسول الله علمنی کلمات أعیش بهن ولا تکثر علیّ فانسی، فقال رسول الله ﷺ ”لا تغضب“ (کتاب الجامع، باب ما جاء فی الغضب) ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، مجھ کو ایسے کلمات بتائیے جن کے ساتھ میں جیوں۔ اور وہ کلمات زیادہ نہ ہوں کہ میں بھول جاؤں۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غصہ نہ کرو۔ استاد محترم کے اندر اگرچہ کسی قدر غضب کا مزاج تھا تاہم انہوں نے اس حدیث کی جو تشریح کی وہ میرے حافظے میں نقش ہوگئی۔ اس سے مجھے طالب علمی ہی کے زمانہ میں زندگی کا یہ بنیادی اصول مل گیا کہ آدمی کو غصہ کے حالات میں بھی غصہ کے بغیر جینا ہے۔ مزید مطالعہ کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ اس حدیث میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ آدمی کو اشتعال انگیز حالات میں بھی معتدل جواب دینا چاہئے۔ آدمی کو منفی رد عمل کی نفسیات سے مکمل طور پر پاک ہونا چاہئے۔ حتیٰ کہ اشتعال انگیز حالات میں بھی۔ ۵۔ مدرسہ میں درسیات کے تحت جو کتابیں میں نے پڑھیں ان میں سے ایک نہج البلاغہ تھی جو خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب کے کلام پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب مولانا اختر احسن اصلاحی نے پڑھائی تھی۔ وہ مولانا حمید الدین فراہی کے براہ راست شاگرد تھے۔ اس کتاب میں حکمت کی بڑی عجیب عجیب باتیں ہیں۔ گویا کہ یہ کتاب ایک کتابِ حکمت (Book of wisdom) ہے۔ اس سے مجھے ابتدائی دور حیات میں تعلیم کے دوران ہی ایسی حکیمانہ باتیں معلوم ہوگئیں جو میرے لئے بعد کی زندگی میں بہت کار آمد ثابت ہوئیں۔ ان میں سے ایک ، حضرت علی کا یہ قول ہے : العاقل هو الذی یضع الشی مواضعه (عقل مند وہ ہے جو چیزوں کو ان کے مقام پر رکھے)۔ یہ ایک بے حد حکیمانہ کلام ہے۔ زندگی کے معاملات ہمیشہ بہت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ بیشتر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page