مدرسہ کلچر
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
حالات میں انسان کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ افکار کے جنگل میں صحیح فکر کے سرے کو دریافت کرے۔ وہ متنوع انتخاب (options) میں صحیح انتخاب کو معلوم کر سکے۔ وہ دو مشابہ چیزوں کے درمیان فرق کو جانے تاکہ وہ غلط انطَباق کی نادانی نہ کرے۔ ایسی حالت میں وہی شخص صاحب عقل کہے جانے کے قابل ہے جو، حضرت علی کے الفاظ میں، چیزوں کو ان کے اصل مقام پر رکھ سکے۔ یہی آدمی غلط استدلال سے بچے گا۔ وہ اس سے محفوظ رہے گا کہ غلط رائے اور غلط منصوبہ بندی میں مبتلا ہو جائے اور پھر خود بھی تباہ ہو اور دوسروں کی تباہی کا سبب بنے۔ اس حکیمانہ قول نے مجھے بہت فائدہ پہنچایا۔ اس نے ابتداء ہی سے مجھے یہ ذہن دیا کہ میں صحیح تجزیہ کرنے کی کوشش کروں تاکہ صحیح رائے پر پہنچ سکوں۔ ۶۔ مدرسۃ الاصلاح کے ایک ممتاز استاد مولانا محمد شبلی نعمانی ندوی تھے۔ ان سے ہم نے فقہ اور کلام کی کتابیں پڑھیں ۔ ان میں سے ایک ابن رشد کی کتاب بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد تھی ۔ درس کے دوران اس کی یہ عبارت سامنے آئی: فأما شرط الحرب فھو بلوغ الدعوة باتفاق۔ أعني أنه لايجوز حرابتھم حتی یکونوا قد بلغھم الدعوة، وذلك شئى مجتمع عليه من المسلمين لقوله تعالى: وما كنا معذبین حتی نبعث رسولاً (کتاب الجہاد، الفصل الرابع فى شرط الحرب) یعنی جہاں تک جنگ کی شرط کا تعلق ہے تو وہ دعوت کا پہنچنا ہے۔ اور اس پر اتفاق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے جنگ کرنا جائز نہیں یہاں تک کہ ان پر دعوت پہنچ گئی ہو۔ اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر مسلمان متفق الرائے ہیں۔ اس کی بنیاد قرآن میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے جب تک کہ ہم اس کے پاس رسول نہ بھیج دیں۔ استاد مرحوم نے اس عبارت کی جو تشریح کی اس سے مجھے ایک اہم دینی نکتہ ملا۔ ابتدائی دور میں وہ کسی قدر مبہم صورت میں تھا بعد کے مطالعہ سے وہ زیادہ واضح ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ میری سمجھ میں آیا کہ دین اسلام میں جنگ یا ٹکراؤ صرف ثانوی انتخاب (secondary option)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader