دین و شریعت
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، وہ پہلا انتخاب (first option) نہیں۔ کسی فرد یا قوم سے نزاع کی صورت پیش آئے تو پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ پرامن بات چیت کے انداز میں مسئلہ کو حل کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ہر ممکن ذریعہ اختیار کیا جائے۔ پرامن کوشش جب اتمام حجت کے درجہ کو پہنچ جائے اور اس کے باوجود فریق ثانی ٹکراؤ پر قائم رہے تو اس کے بعد ثانوی انتخاب کے طور پر جنگ قابل غور ہوگی۔ تجربات کی روشنی میں دینی مدرسہ میں تعلیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی دنیا کی باتوں سے بے خبر رہ جائے۔ یہ عین ممکن ہے کہ آدمی باقاعدہ طور پر صرف دینی درس گاہ میں تعلیم پائے، اس کے باوجود وہ ان علوم و معارف سے باخبر ہو جن کو دنیا کے علوم و معارف کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال میں خود ہوں ۔ میری باقاعدہ تعلیم دینی مدرسہ یا علماء کی صحبتوں میں ہوئی۔ مگر اس کے بعد میں نے اللہ کے فضل سے بیشتر سیکولر علوم کا مطالعہ کیا۔ پامسٹری سے لے کر اسٹرا نومی تک شاید ہی کوئی علم ہو جس کو میں نے نہ پڑھا ہو۔ اس کا راز یہ تھا کہ میں نے مدرسہ سے فراغت کے بعد ذاتی محنت سے انگریزی زبان اچھی طرح سیکھ لی۔ انگریزی سیکھتے ہی میری دسترس تمام علوم تک ہو گئی۔ دوسری طرف میں اپنے دعوتی مزاج کی بنا پر ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت زیادہ اسفار کرنے لگا۔ اس طرح انگریزی زبان اور عمومی اختلاط (interaction) میرے لئے تمام علوم سے واقفیت کے لئے کافی ہو گیا۔ مدارس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر زمانہ میں کثیر تعداد میں ایسے لوگ رہے ہیں جن کی تعلیم اصلاً مدرسہ میں ہوئی لیکن اس کے بعد انھوں نے دنیوی علوم میں بھی مہارت حاصل کر لی اور یہ سب ان کی ذاتی محنت سے ممکن ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مختلف علوم کو حاصل کرنے کے سلسلہ میں اصل اہمیت کھلے ذہن (open mind) کی ہے۔ اگر آدمی جمود ذہنی میں مبتلا نہ ہو، اگر وہ کھلے دل و دماغ کے ساتھ ہر چیز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader