Urdu book · دین و شریعت

تجربات کی روشنی میں

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

کو دیکھے اور ہر چیز کو پڑھے تو پوری دنیا اس کے لئے ایک عظیم درسگاہ بن جائے گی۔ وہ ہر لمحہ نئی نئی باتیں سیکھے گا۔ ہر روز وہ نئے علم سے واقفیت حاصل کرے گا۔ ڈگری کی حیثیت صرف پہچان کی ہے۔ جہاں تک علم کا تعلق ہے، اس کو آدمی ذاتی محنت سے حاصل کرتا ہے۔ اور ذاتی محنت کا دروازہ کبھی کسی کے لئے بند نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وسعتِ علم کے لئے اصل اہمیت اس مزاج کی ہے جو حضرت عمر فاروق کے اندر پایا جاتا تھا، جیسا کہ ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ : كان يتعلم من كل احد۔ یہ بات مدرسہ کے مقاصد میں شامل ہے کہ رسمی تعلیم کے علاوہ وہ طالب علم کے اندر اس قسم کا معلمانہ ذوق پیدا کرےـ تعلیم (education) کیا ہے۔ فنی بحثوں سے قطع نظر تعلیم کا مقصد بنیادی طور پر ایک ہے، اور وہ انسانی شخصیت کا ارتقاء (personality development) ہے۔ تعلیم کے ذریعہ پیشہ ورانہ یا پروفیشنل ڈگری حاصل کرنا ایک اضافی چیز ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد شعورِ انسانی کو بیدار کرنا ہے۔ اور اس کو ان حقیقتوں سے باخبر کرنا ہے جو وسیع تر زندگی میں کام آنے والی ہوں۔ میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدارس دینیہ، دوسری تعلیم گاہوں کی طرح اِس معیار پر پورے اترتے ہیں۔ میں مکمل طور پر مدرسہ کی پیداوار (product) ہوں۔ اگر کوئی شخص مجھ کو ایک کامیاب انسان سمجھتا ہو تو میں کہوں گا کہ میری یہ کامیابی تمام تر مدرسہ کی دین ہے۔ مدرسہ سے مجھے وہ شعور ملا اور وہ اقدار (values) حاصل ہوئیں جو میرے لئے جدوجہد حیات میں ہر قدم پر رہنما بن گئیں۔ مدرسہ ہو یا کالج اور یونیورسٹی، کوئی بھی ادارہ کسی انسان کو مکمل علم نہیں دیتا اور نہ دے سکتا۔ انسان اپنی پختگی کی عمر کو ۳۵ سال کے بعد پہنچتا ہے جب کہ مدرسہ یا یونیورسٹی کی تعلیم اس عمر سے پہلے ہی مکمل ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی تعلیمی ادارہ کسی انسان کو کامل علم دے سکے جس طرح ایک کلو کے برتن میں دس کلو دودھ رکھنا ممکن نہیں اسی طرح طالب علمی کی عمر میں کسی کو کامل علم بھی نہیں دیا جا سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page