تجربات کی روشنی میں
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں میں کیمسٹری کے ایک نوبل انعام یافتہ ایچ اے کریبس (H. A. Krebs) کی بات نقل کروں گا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ نوبل انعام حاصل کرنے کے لئے اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ دورانِ تعلیم آدمی کو معلومات کا انبار مل جائے۔ بلکہ ساری اہمیت اس بات کی ہے کہ آدمی کو کوئی ایسا ادارہ یا ایسا استاد مل جائے جو اس کے اندر صحیح زاویہ نظر (attitude of mind) پیدا کر دے۔ اسی ابتدائی زاویہ نظر کی رہنمائی میں آدمی آگے بڑھتا ہے اور ذاتی محنت سے ترقی کرتے کرتے وہ نوبل انعام تک پہنچ جاتا ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ مدرسہ کی تعلیم کا ہے۔ کوئی مدرسہ بذات خود کسی کو بڑا عالم نہیں بناتا۔ مدرسہ کا کام یہ ہے کہ وہ آدمی کو صحیح طرزِ فکـر دے، جس کی روشنی میں وہ آئندہ اپنا علمی سفر مفید سمت میں جاری رکھ سکے۔ یہاں تک کہ وہ علم کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائے۔ انسان کی استعداد ہمیشہ بڑھتی رہتی ہے۔ چنانچہ حصول علم کے لئے اس کا سفر بھی ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ ایسی حالت میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ابتدائی عمر بالفاظ دیگر دور تیاری (formative period) ہی میں اس کو مطالعہ اور استنباط کا صحیح رخ مل جائے۔ یہ رخ استاد اور ادارہ دونوں سے ملتا ہے۔ ایک لائق استاد گویا ایک زندہ لائبریری ہوتا ہے جو طالب علم کو بہترین رہنمائی دیتا رہتا ہے۔ اسی طرح ادارہ کا ماحول اگر تعمیری اور صحت مند ہو تو وہ شعوری اور غیر شعوری طور پر طالب علم کی علمی شخصیت کی تکمیل میں موثر مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہاں میں علامتی طور پر ان میں سے صرف چند ذاتی تجربات کا ذکر کروں گا۔ تاہم یہ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں ہے بلکہ وہ میرے جیسے ان لاکھوں لوگوں کی کہانی ہے جن کو مدارس سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا۔ اور پھر انھوں نے دنیا میں ایک کامیاب زندگی گزاری۔ ۱۔ مدرسۃ الاصلاح میں قرآن خصوصی طور پر داخل نصاب تھا۔ یہاں مجھے یہ موقع ملا کہ میں مشہور اور ممتاز عالم مولانامین احسن اصلاحی (صاحب تدبر القرآن) سے براہ راست قرآن کی تعلیم حاصل کروں۔ مولانا محترم اس وقت مدرسہ میں استاد تفسیر بھی تھے اور صدر مدرس بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader