تجربات کی روشنی میں
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روز درسِ قرآن کے دوران قرآن کے تیسویں پارہ کی یہ آیت سامنے آئی: افلا ينظرون الى الابل كيف خلقت ۔ (الغاشیہ ۱۷) استادِ محترم مولانا امین احسن اصلاحی (وفات ۱۹۹۸) نے اس موقع پر طلبہ سے سوال کیا کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے ہوتے ہیں۔ یعنی بیل کی مانند ہوتے ہیں یا گھوڑے کی مانند۔ اس وقت ہماری جماعت میں تقریباً ۲۰ طالب علم تھے۔ مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ ہر ایک اٹکل سے کبھی ایک جواب دیتا اور کبھی دوسرا جواب۔ اس کے بعد استادِ محترم نے ایک تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ تمہارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سم کی نوعیت کے بارے میں نہیں جانتے۔ پھر انھوں نے عربی زبان کا یہ مقولہ سنایا ”لا ادری “ نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے) اس کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر ہو تو گویا کہ اس معاملہ میں تمہارے پاس آدھا علم موجود ہوتا۔ کیوں کہ اپنی لا علمی کو جاننے کے بعد تمہارے اندر یہ شوق پیدا ہوتا کہ تم اپنے علم کو مکمل کرنے کے لئے یہ معلوم کرو کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں۔ اگر لا ادری کا شعور تمہارے اندر بیدار ہو تا تو اونٹ پر نظر پڑتے ہی تم اس کے سم کو غور سے دیکھتے اور پھر تم اپنے نہ جاننے کو جاننا بنا لیتے۔ مدرسہ کا یہ واقعہ میرے لئے اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملہ میں اپنی نادا واقفیت کو جانوں، تاکہ میں اس کو واقفیت بنا سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتدائ مدرسہ سے ملا تھا۔ بعد کو میں نے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپریٹ آف انکوائری (spirit of inquiry)۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذبہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔ اس کی ایک مشہور مثال یہ ہے کہ ہزاروں لوگوں نے سیب کو درخت سے گرتے ہوئے دیکھا تھا۔ مگر اس معاملہ میں وہ اپنے ”لا ادری“ کو نہیں جانتے تھے، اس لئے وہ اس کی حقیقت سے بے خبر رہے۔ نیوٹن پہلا شخص ہے جس نے اس معاملہ میں اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader