Urdu book · دین و شریعت

غیر سیاسی ایمپائر

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی میں جب بھی آپ کوئی منصوبہ لے کر اٹھیں تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ کا منصوبہ حقیقی حالات کے لحاظ سے قابل بقا (sustainable) ہے یا نہیں۔ اس دنیا میں کوئی بھی منصوبہ ہمیشہ بہت دیر میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے۔ شاہ بلوط (oak) کے درخت کو مکمل درخت بننے کے لئے ایک سو سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح قومی منصوبے بھی لمبی مدت کے بعد تکمیل کو پہنچتے ہیں۔ ایسی حالت میں کوئی ایسا منصوبہ کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا جو تھوڑے دن کی دھوم کے بعد اچانک ختم ہو جائے۔ اس دنیا میں وہی منصوبہ حقیقی معنوں میں منصوبہ ہے جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ تاریخ میں مسلسل جاری رہ سکے۔ مدارس دینیہ کی تحریک اسی قسم کی ایک قابل بقا تحریک تھی۔ چنانچہ وہ آغاز کے بعد مسلسل جاری رہی۔ انیسویں صدی کے نصف آخر میں وہ بلا رکاوٹ چلتی رہی پھر بیسویں صدی میں وہ مسلسل جاری رہی اور اب اس نے کامیابی کے ساتھ اکیسویں صدی میں قدم رکھ دیا ہے۔ اس مدت میں ہند ستان میں لاکھوں کی تعداد میں مکتب اور مدرسہ اور دارالعلوم (جامعہ) قائم ہوئے۔ حتیٰ کہ سارے ملک میں دینی اداروں اور تعلیم گاہوں کا ایک جال (network) وجود میں آگیا جو نسل در نسل لوگوں کو تعلیم یافتہ بناتا رہا۔ جیسا کہ معلوم ہے ،علم زندگی کا کوئی ایک شعبہ نہیں۔ براہ راست یا بالواسطہ طور پر علم کا تعلق زندگی کے تمام شعبوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس طرح تقریبا ڈیڑھ سو سال کی بلا انقطاع تعلیمی جد و جہد اس نوبت کو پہنچی ہے کہ یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ ہندوستان میں اب مسلمانوں کا غیر سیاسی سطح پر ایک دینی وملی ایمپائر قائم ہو چکا ہے جو اپنی مختلف خصوصیات کی بنیاد پر قدیم پولیٹیکل ایمپائر سے کہیں زیادہ اہم اور دور رس ہے۔ اس غیر سیاسی ایمپائر کے نمونے آج ہر جگہ اور ہر روز دیکھے جا سکتے ہیں —— ملک کے مختلف حصوں میں کھڑی ہوئی بلند مسجدیں، مدرسوں کی عالی شان عمارتیں، جدید وسائل سے لیس بڑے بڑے دینی اور ملی ادارے، تقریبا ہر روز ہونے والے عظیم جلسے اور کانفرنسیں، مسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page