غیر سیاسی ایمپائر
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
رہنماؤں کے پر شوکت دورے اور اسفار، مسلم اداروں میں بڑی مقدار میں کار اور ٹیلی فون اور فیکس اور کمپیوٹر جیسی جدید سہولیات، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے بہت سے مظاہر آج کثرت سے ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ جو مذکورہ قسم کے غیر سیاسی ایمپائر کا تعارف کراتے ہیں۔ وہ خاموش زبان میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ آج اس خطۂ ارض میں مسلم ملت کو ایسے عظیم مواقع حاصل ہیں جو سیاسی اقتدار کے زمانہ میں بھی اس کو حاصل نہ تھے۔ سیاسی اقتدار کے زمانہ میں جو کچھ صرف ایک شاہی خاندان کو حاصل ہو سکتا تھا، وہ آج پوری مسلم ملت کو حاصل ہو گیا ہے۔ علماء کی تعلیم دین کی تحریک کی یہ صفت کہ وہ قابل بقا (sustainable) تھی، بے حد اہم ہے۔ اس کے قابل بقا ہونے ہی کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ وہ مستقبل میں ظاہر ہونے والے امکانات کو پا سکے۔ چنانچہ یہ تحریک مسلسل چلتی رہی، یہاں تک کہ وہ جدید صنعتی دور میں پہنچ گئی۔ اور اس طرح وہ اس قابل ہو گئی کہ بعد کے دور میں ظاہر ہونے والے امکانات کو اپنے حق میں استعمال کر سکے۔ اگر یہ تحریک قابل بقانہ ہوتی تو دوسری بہت سی وقتی سرگرمیوں کی طرح، جدید امکانات کے ظہور سے پہلے ہی وہ ختم ہو جاتی۔ اس طرح اس کے لئے یہ ممکن ہی نہ ہوتا کہ وہ بعد کو ظاہر ہونے والے امکانات کو اپنی ترقی کا جزء بنا سکے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ سابق پولیٹیکل ایمپائر کے کھونے پر مسلمان لمبی مدت تک مرثیہ خوانی کرتے رہے، مگر اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ دنیا میں اس سے کہیں زیادہ بڑے دروازے ان کے لئے کھل گئے۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ یہاں ہم ایک ایسا غیر سیاسی ایمپائر کھڑا کر سکیں جو اپنے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے سیاسی ایمپائر سے بہت زیادہ بامعنیٰ اور مفید ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلے تقریبا ڈیڑھ سو سالہ عمل کے نتیجہ میں اس خطۂ ارض میں مسلمانوں کا ایک پر امن غیر سیاسی ایمپائر قائم ہو چکا ہے۔ ہر مسجد و مدرسہ اور ہر مسلم ادارہ اس ایمپائر کا ایک غیر متزلزل ستون ہے۔ آج مسلم قوم کو اس ملک میں جو بقاو استحکام حاصل ہے وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader