Urdu book · دین و شریعت

دین و شریعت

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

انہیں لاکھوں اداروں (institutions) کی بدولت ہے۔ اگر یہ ادارے نہ ہوں تو کوئی شہنشاہ بھی ان کو یہ استحکام نہیں دے سکتا۔ یہ واقعہ دور جدید کی بنا پر ممکن ہوا۔ جدید تبدیلیوں نے سیاسی اقتدار کو ثانوی اہمیت کی چیز بنا دیا ہے اب طاقت کا حقیقی سرچشمہ ادارے (institutions) ہیں۔ اداروں کی سطح پر آج وہ سب کچھ مزید اضافے کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی امید پہلے محدود طور پر صرف سیاسی اقتدار سے کی جاتی تھی۔ سیاسی ایمپائر فوج کی طاقت کے زور پر بنتا ہے، اور غیر سیاسی ایمپائر اداروں (Institutions) اور تنظیمات (Organizations) کی طاقت سے قائم ہوتا ہے۔ سیاسی ایمپائر ایک شخص یا گروہ کی عظمت کا مینار کھڑا کرتا ہے۔ اور غیر سیاسی ایمپائر پوری ملت یا پوری قوم کا محل تعمیر کرتا ہے۔ سیاسی ایمپائر ایک کے اوپر دوسرے کی حکمرانی کی علامت ہوتا ہے، جب کہ غیر سیاسی ایمپائر مجموعی طور پر پوری انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔ اللہ کی توفیق سے آج یہ غیر سیاسی ایمپائر اس خطہ ارض کے مسلمانوں کے لئے پورے معنوں میں قائم ہو چکا ہے۔ فالحمد لله علی ذلک۔ دور کی تبدیلی حدیث میں آیا ہے کہ : کانت بنو اسرائیل تسوسهم الانبیاء (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، ۶/ ۵۷۳) یعنی بنی اسرائیل کے (دینی امور) کی نگہبانی ان کے انبیاء کرتے تھے۔ یہ صرف بنی اسرائیل کی بات نہیں، قدیم زمانہ میں یہی تمام امتوں کا معاملہ تھا۔ ہر امت کی نگرانی و نگہداشت کی ذمہ داری اس کے پیغمبر کے اوپر ہوتی تھی۔ چنانچہ قدیم زمانہ میں مسلسل پیغمبر آتے رہے۔ (المومنون ۴۴) یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ جن کے بعد نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی جو امت بڑی تعداد میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page