Urdu book · دین و شریعت

دور کی تبدیلی

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، اس کی نگرانی اور نگہداشت کی ذمہ داری کس کے اوپر ہے۔ جواب یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری کسی سیاسی حاکم پر نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری امت کے علماء پر ہے۔ یہی بات حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے کہ: إن العلماء ورثة الانبياء (صحیح البخاری، کتاب العلم) یعنی علماء نبیوں کے وارث ہیں۔ اس حقیقت کو ایک اور روایت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: علماء امتی كأنبياء بنی اسرائیل (یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں)۔ یہ آخری حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہونے کے باوجود معنی کے اعتبار سے قوی ہے کیوں کہ دوسری روایتیں اس کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔ امت محمدی کے علماء، ختم نبوت کے بعد، مقام نبوت پر ہیں۔ اب امت کے علماء کو وہی کام انجام دینا ہے جس کے لئے پہلے پیغمبر آتے تھے۔ یہ کام بنیادی طور پر دو ہیں ــــ امت کے امور و مسائل کی تدبیر قرآن و سنت کی رہنمائی میں کرنا، اور اسلام کے ابدی پیغام کو تمام قوموں تک پہنچانا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو بہت بڑا کام ہے۔ پیغمبر جب اس کام کو انجام دیتے تھے تو ان کے ساتھ اللہ کے فرشتوں کی غیبی مدد شامل رہتی تھی۔ جو پیغمبروں کے لئے ہر کامیابی کی یقینی ضمانت تھی۔ اب جب کہ اس قسم کی غیبی مدد آنے والی نہیں ہے تو علماء اس بھاری ذمہ داری کو کیوں کر انجام دیں گے۔ اس کا جواب پیشگی طور پر قرآن میں دے دیا گیا ہے۔ قرآن میں دین کی تکمیل و استحکام کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فلا تخشوه هم واخشون (المائدہ ۳) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ دنیا میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد دنیا کی تاریخ میں ایک نیا دور برپا ہو چکا ہے۔ آیت کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ اب خشیت انسانی کا دور ختم ہو گیا، اور انسانی تاریخ تمدنی اعتبار سے خشیت خداوندی کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اب ایک ایسا دور انسانی تاریخ میں آچکا ہے جب کہ کسی کے لئے یہ ممکن ہی نہ رہا کہ وہ خدا کے دین کی راہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page